واشنگٹن / نیپ ویل: ریاست ٹینیسی میں 50 سالہ خاتون قیدی کرسٹا پائیک (Christa Pike) کو زہریلا انجیکشن دے کر موت کے گھاٹ اتارے جانے کی ناکام اور شدید تشویشناک کوشش کے بعد امریکا میں سزائے موت پر مکمل پابندی (Moratorium) کے مطالبات نے زور پکڑ لیا ہے۔
معروف وکلاء، ممتاز ڈاکٹروں اور مذہبی رہنماؤں نے امریکی حکومت سے مطالبات کی شروعات کرتے ہوئے کہا ہے کہ سزائے موت کی یہ کارروائیاں آئین میں درج “بے رحمانہ اور غیر معمولی سزا” کے خلاف ورزی ہیں۔
ریاست کے گورنر بل لی (Bill Lee) نے آخری لمحے میں اس عمل کو اس وقت روک دیا جب کرسٹا پائیک کے جسم میں پینٹوباربیٹل (Pentobarbital) کی دو مکمل سرنجز (5 ملی گرام کی فیٹل ڈوز) داخل کی جا چکی تھیں۔ شدید ترین زہریلی خوراک ملنے کے باوجود کرسٹا پائیک زندہ بچ گئیں، تاہم وہ اس وقت تشویشناک حالت میں زندگی اور موت کی کشمکش میں ہیں۔
کرسٹا پائیک کے وکیل رینڈی اسپائیوی (Randy Spivey) نے بتایا کہ انہوں نے پائیک کے بائیں بازو میں 7 سوئیاں داخل دیکھی تھیں، جن میں سے ایک نکالتے وقت مڑ چکی تھی۔ انفیوژن کے ایک گھنٹے بعد بھی پائیک کو سانس گھٹنے اور دل کی دھڑکن جاری رہنے کی حالت میں پایا گیا۔
کرسٹا کی قانونی ٹیم کی مشیر ساندرا بابکاک (Sandra Babcock) نے اس واقعے کو “ناقابلِ تصور بربریت” قرار دیتے ہوئے گورنر بل لی سے کرسٹا کی سزائے موت کو عمر قید میں بدلنے کا مطالبہ کیا۔
ایکوئل جسٹس انیشی ایٹو کے بانی اور بین الاقوامی شہرت یافتہ وکیل برائن اسٹیونسن (Bryan Stevenson) نے کہا کہ حالیہ سالوں میں درجن بھر ناکام سزائے موت کے واقعات کے بعد اب سزائے موت کی اس غلط پالیسی کو فوراً بند ہونا چاہیے۔
‘ڈیڈ مین واکنگ’ کی مصنفہ اور معروف سرگرم کارکن سسٹر ہیلن پریجین (Helen Prejean) نے اس عمل کو شدید ذہنی اور جسمانی اذیت قرار دیتے ہوئے کہا کہ کسی انسان کو بار بار موت کا انتظار کروا کر ناکام کوشش کرنا ناانصافی کی انتہا ہے۔
اینستھیزیالوجی کے پروفیسر جوئل زیووٹ (Joel Zivot) نے انکشاف کیا کہ انہوں نے اگست کی سماعت میں عدالت کو پہلے ہی خبردار کیا تھا کہ پائیک کی خون کی بیماری (Platelet disorder) اور مسلسل قیدِ تنہائی کی وجہ سے ان کی رگیں انجیکشن کے قابل نہیں ہیں، مگر اس طبی انتباہ کو نظر انداز کر دیا گیا۔





