دبئی / ریاض / تل ابیب: دبئی سے تل ابیب جانے والی فلائی دبئی (Flydubai) کی پرواز FZ1073 میں دورانِ پرواز کاکپٹ کے اندر چاقو سے حملے اور طیارے کو گرانے کی کوشش کے ہولناک واقعے پر متحدہ عرب امارات کے چیف پراسیکیوٹر نے باضابطہ قانونی تحقیقات شروع کرنے کا حکم جاری کر دیا ہے۔
اماراتی سرکاری خبر رساں ایجنسی (WAM) کے مطابق یو اے ای کو جہاز کی رجسٹریشن اور اماراتی پرچم کے تحت پرواز کرنے کی بنیاد پر اس واقعے پر مکمل قانونی و عدالتی اختیار حاصل ہے۔
تحقیقات میں اس بات کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا کہ آیا اس حملے میں کوئی جنگجو یا دہشت گرد گروہ ملوث تھا یا یہ پہلے سے تیار کردہ کسی منصوبے کا حصہ تھا۔
بین الاقوامی ذرائع کے مطابق، سعودی عرب نے اسرائیل کی ان متعدد درخواستوں کو صاف مسترد کر دیا جن میں مسافروں کو واپس لانے کے لیے تبوک ایئرپورٹ پر اپنے فوجی یا کمرشل (El Al) طیارے بھیجنے کی اجازت مانگی گئی تھی۔ سعودی حکام نے واضح کیا کہ انہوں نے اپنے بین الاقوامی معاہدو ں کے تحت مسافروں کو تمام تر سہولیات فراہم کیں، قطع نظر اس کے کہ ان کی قومیت کیا تھی۔
فلائٹ ڈیٹا کے مطابق، کاکپٹ میں معرکے کے دوران طیارہ محض ایک منٹ کے اندر 17,000 فٹ نیچے کی طرف گرا، جس سے کابین میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے شدید زخمی بھارتی کپتان سمت مچھار (Smit Machchhar) کو زبردست خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے “ہیرو” قرار دیا۔ نیتن یاہو نے کاکپٹ میں حملہ آور کو دبوچنے والے اسرائیلی مسافر (یانک) کی جرات کو بھی سراہا۔
اسرائیلی وزیر خارجہ گڈون سار اور یو اے ای کے اپنے ہم منصب عبداللہ بن زاید آل نہیان کے درمیان رابطہ ہوا جس میں انتہا پسند عناصر کے خلاف مل کر کام کرنے پر اتفاق کیا گیا۔
صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے گفتگو کے بعد کہا کہ یوں لگتا ہے جیسے کو-پائلٹ یا تو دہشت گرد تھا یا پھر کوئی سرپھرا اور ذہنی مریض۔



