واشنگٹن / اوٹاوا:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے کینیڈا کے ساتھ جاری تجارتی جنگ میں مزید شدت لاتے ہوئے منگل کی رات 12:01 بجے سے کینیڈا سے آنے والی متعدد اشیاء کی درامد پر باقاعدہ پابندی (Import Ban) عائد کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
اس نئے اقدام میں الکحل مشروبات، ڈائری پروڈکٹس (پنیر اور وہی پروٹین)، شیرہ (Molasses) اور موٹر سائیکلیں شامل ہیں۔
تجارتی ماہرین اور وائٹ ہاؤس کے حکام کے مطابق اس اقدام کا مقصد کینیڈا کی جانب سے ممکنہ مزید جوابی کارروائی اور جوابی ٹیرف کی پالیسی کو روکنا ہے۔
نیویارک لا اسکول کے بین الاقوامی تجارتی قانون کے ماہر بیری ایپلیٹن کا کہنا ہے کہ “ٹیرف کو مذاکرات کے ذریعے کم کیا جا سکتا ہے لیکن درامد پر مکمل پابندی کو ختم کرنا انتہائی مشکل ہوتا ہے، امریکہ اس وقت اوٹاوا پر شدید سیاسی و معاشی دباؤ بڑھا رہا ہے”۔
کینیڈا کی جانب سے امریکہ بھیجے جانے والے تمام الکحل مشروبات بشمول بیئر، وائن، اور وِسکی پر پابندی لگائی گئی ہے۔ کینیڈا کی اسپرٹس انڈسٹری ہر سال تقریباً 1.2 ارب ڈالر کی اسپرٹس امریکہ برآمد کرتی ہے۔
ڈائری سیکٹر میں خاص طور پر وہی پروٹین (Whey) پر پابندی لگائی گئی ہے، جو پروٹین سپلیمنٹس اور فوڈ انڈسٹری میں استعمال ہوتی ہے۔ کینیڈا نے گزشتہ سال امریکہ کو 73 ملین ڈالر کی وہی برآمد کی تھی۔
کینیڈا کی مینوفیکچرنگ کمپنی BRP کی تین پہیوں والی روڈسٹر موٹر سائیکلوں کی امریکہ درامد روک دی گئی ہے، جو کہ کیوبیک کی معیشت کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے۔
اسکاٹیا بینک کے معاشی ماہر ڈیرک ہولٹ کے مطابق قومی سطح پر ان پابندیوں کا اثر محدود رہے گا، کیونکہ 50 فیصد ٹیرف کی وجہ سے کینیڈین مصنوعات کی امریکہ برآمدات پہلے ہی انتہائی مشکل ہو چکی تھیں۔
کینیڈین وزیراعظم مارک کارنی (Mark Carney) نے اپنے ایک پیغام میں واضح کیا ہے کہ کینیڈا اپنے تجارتی شراکت داروں میں تنوع لائے گا تاکہ کوئی بھی ملک کینیڈا کو یرغمال نہ بنا سکے۔



