نیویارک: پاکستان نے عالمی برادری اور اقوام متحدہ پر زور دیا ہے کہ مصنوعی ذہانت (AI) کی ٹیکنالوجی کو فوجی مقاصد اور خطرناک “ہتھیاروں کی دوڑ” کے نۓ مرحلے میں تبدیل ہونے سے روکا جائے۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل (UNSC) کے فرانس کی زیرِ صدارت منعقدہ اہم اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے نائب وزیراعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ ملٹری ڈومین میں ای آئی کے غیر سنجیدہ استعمال کے خطرات، غلط فہمیوں اور فوری فیصلوں کے دباؤ کو کم کرنے کے لیے ضبطِ نفس اور حفاظتی اقدامات ضروری ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ AI کے تمام مراحل میں انسانی فیصلہ سازی اور کنٹرول (Human Control) کو برقرار رکھنا اولین ترجیح ہونی چاہیے۔
اس اعلیٰ سطحی اجلاس میں دنیا کی معروف ٹیک کمپنیوں کے سربراہان بشمول اوپن اے آئی (OpenAI) کے سی ای او سیم آلٹمین (Sam Altman) اور اینتھروپک (Anthropic) کے سی ای او ڈاریو اموڈائی (Dario Amodei) نے بھی کونسل کو بریفنگ دی۔ سیم آلٹمین کا کہنا تھا کہ یہ وقت انتہائی احتیاط کا تقاضا کرتا ہے کیونکہ یہ ٹیکنالوجی طاقت کو چند ہاتھوں میں مرکوز کر سکتی ہے، جبکہ ڈاریو اموڈائی نے اعلان کیا کہ ان کی کمپنی حفاظت اور تحفظ کے لیے نئی مصنوعات کی تیاری کو سست کرنے کے لیے بھی تیار ہے۔
اسحاق ڈار نے مزید کہا کہ AI چند ممالک یا کمپنیوں کی اجارہ داری نہیں ہونی چاہیے اور حفاظت کے نام پر تکنیکی ترقی اور منتقلی پر پابندیاں عائد نہیں کی جانی چاہئیں۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ ای آئی گورننس کے فیصلے اقوام متحدہ کے جامع اور نمائندہ پلیٹ فارم کے تحت ہونے چاہئیں۔





