لوڈ ہو رہا ہے...
00:00:00
ہیڈ لائنز

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی:محمودعباس کا ورچوئل خطاب،اسرائیل کےمحاسبےاوردوریاستی حل کامطالبہ

لنک کاپی ہو گیا ہے!

John Doe

رام اللہ / نیویارک: فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی (UNGA) کے 81ویں اجلاس سے اپنے گراں قدر ویڈیو خطاب میں عالمی برادری سے اسرائیل کا فوری محاسبہ کرنے اور ‘دو ریاستی حل’ (Two-State Solution) کو یقینی بنانے کا پرزور مطالبہ کیا ہے۔

صدر ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے سفری پابندیوں کے باعث امریکی ویزا نہ ملنے پر 89 سالہ فلسطینی قائد نے مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر رام اللہ سے ریکارڈ شدہ ویڈیو پیغام کے ذریعے اسمبلی سے خطاب کیا۔ انہوں نے عالمی رہنماؤں سے سوال کیا: “بین الاقوامی برادری فلسطینی عوام کے تحفظ، ان کی اپنی سرزمین پر موجودگی کو یقینی بنانے اور اسرائیلی غصب کو ختم کرنے کے لیے آخر کس چیز کا انتظار کر رہی ہے؟”

محمود عباس نے کہا کہ غزہ کے عوام کو اسرائیلی افواج کے ہاتھوں بدترین تباہی، بھوک، جبری بے دخلی اور نسل کشانہ جنگ کا سامنا ہے، جس نے ایک بے مثال انسانی المیے کو جنم دیا ہے۔ یہ خطاب ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ‘بورڈ آف پیس’ نے غزہ کی بحالی کے لیے 10 برسوں کے دوران 71.4 ارب ڈالر کا تخمینہ ظاہر کیا ہے۔

فلسطینی صدر نے امریکہ کی جانب سے فلسطینی اتھارٹی پر عائد کردہ پابندیوں پر تنقید کرتے ہوئے ٹرمپ انتظامیہ پر زور دیا کہ وہ ان سخت پابندیوں کو ختم کرے اور دوطرفہ احترام کی بنیاد پر دوبارہ باہمی بات چیت اور سفارتی راستے کا آغاز کرے۔