لوڈ ہو رہا ہے...
00:00:00
ہیڈ لائنز

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی:بلال بن ثاقب کا خطاب، AI اورٹوکنائزیشن کومالی شمولیت کا ذریعہ بنانےپرزور

لنک کاپی ہو گیا ہے!

John Doe

نیویارک: پاکستان ورچوئل اثاثہ جات ریگولیٹری اتھارٹی (PVARA) کے چیئرمین اور وزیرِ مملکت بلال بن ثاقب نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے موقع پر سوشل بزنس، یوتھ اینڈ ٹیکنالوجی فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ مصنوعی ذہانت (AI) اور ٹوکنائزیشن ترقی پذیر دنیا میں مالی شمولیت کے اہم ذرائع بن سکتے ہیں۔

بلال بن ثاقب نے اپنے خطاب میں کہا کہ دنیا بھر میں بڑی تعداد میں افراد اب بھی روایتی مالیاتی نظام سے باہر ہیں، جبکہ ان میں سے کروڑوں افراد موبائل فونز استعمال کرتے ہیں۔ ان کے مطابق مسئلہ صرف ٹیکنالوجی کی عدم دستیابی کا نہیں بلکہ ایسے مالیاتی نظام اور قواعد وضع کرنے کا بھی ہے جو عام لوگوں کو اس ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھانے کے قابل بنائیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ورچوئل اثاثوں کے شعبے میں واضح ریگولیٹری فریم ورک کی جانب پیش رفت کی ہے۔ ان کے مطابق ورچوئل اثاثہ جات سے متعلق قانون سازی، ریگولیٹری سینڈ باکس اور ورچوئل اثاثہ سروس فراہم کرنے والوں کے لیے لائسنسنگ نظام اس شعبے کو منظم کرنے کی کوششوں کا حصہ ہیں۔

بلال بن ثاقب نے زور دیا کہ ٹیکنالوجی اور مؤثر ریگولیشن کو ساتھ لے کر چلنا ہوگا تاکہ ڈیجیٹل فنانس کے فوائد عام لوگوں، نوجوانوں، چھوٹے کاروباروں اور ترقی پذیر معیشتوں تک پہنچ سکیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ڈیجیٹل اثاثے، ٹوکنائزیشن اور بلاک چین جیسی ٹیکنالوجیز مالیاتی نظام میں شمولیت، شفافیت اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا کر سکتی ہیں، تاہم ان کے ساتھ صارفین کے تحفظ، غیر قانونی مالی سرگرمیوں اور مارکیٹ کے خطرات جیسے معاملات کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے۔

اس سے قبل ستمبر میں اقوام متحدہ کے ایک سیشن سے ورچوئل خطاب میں بھی بلال بن ثاقب نے رکن ممالک پر زور دیا تھا کہ ڈیجیٹل اثاثوں اور بلاک چین کے لیے عالمی سطح پر مؤثر ریگولیٹری اور ادارہ جاتی فریم ورک تشکیل دینے کے لیے تعاون کیا جائے۔

بلال بن ثاقب نے اپنے خطاب میں نوجوانوں اور ترقی پذیر ممالک کے لیے ٹیکنالوجی کے مواقع کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ نئی ٹیکنالوجیز کو صرف اپنایا نہ جائے بلکہ انہیں مقامی ضروریات اور عوامی مفاد کے مطابق تشکیل دینے میں بھی کردار ادا کیا جائے۔