لوڈ ہو رہا ہے...
00:00:00
ہیڈ لائنز

H-1B ویزا فیس ایک لاکھ ڈالر،ٹرمپ انتظامیہ نے حکم نامے میں ایک سال کی توسیع کردی

لنک کاپی ہو گیا ہے!

John Doe

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غیر ملکی ہنرمند کارکنوں کے لیے ’ایچ ون بی‘ (H-1B) ویزا فیس میں 1 لاکھ ڈالر اضافے سے متعلق صدارتی حکم نامے کی مدت میں مزید ایک سال کی توسیع کر دی ہے۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اس بھاری فیس کے نفاذ کو امریکی عدالتوں میں شدید قانونی چیلنجز کا سامنا ہے۔

ایچ ون بی ویزا پروگرام، جو 1990 میں امریکی کانگریس کے تحت قائم کیا گیا تھا، خاص طور پر سلیکون ویلی اور ٹیک انڈسٹری کے لیے انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔ اس اسکیم کے تحت امریکی کمپنیاں خصوصاً بھارت اور چین سے تعلق رکھنے والے اعلیٰ تعلیم یافتہ اور ماہرین کو امریکہ بلا کر ملازمت فراہم کرتی ہیں۔

ٹرمپ انتظامیہ نے ایچ ون بی ویزا کی بنیادی فیس کو 2 ہزار سے 5 ہزار ڈالر کے مقابلے میں بڑھا کر ایک لاکھ ڈالر کر دیا تھا، جسے کاروباری اور تکنیکی حلقوں کی جانب سے عدالتوں میں چیلنج کیا گیا۔

بوسٹن کی اپیل عدالت ایک وفاقی جج کے جون میں دیے گئے فیصلے کا جائزہ لے رہی ہے، جس میں اس فیس کو غیر قانونی قرار دے کر حکومت کو وصولی سے روک دیا گیا تھا۔ علاوہ ازیں، امریکی چیمبر آف کامرس کی چیلنجنگ درخواست پر بھی قانونی چارہ جوئی جاری ہے۔

ستمبر 2025 میں جاری ہونے والے اس حکم نامے کی مدت رواں ماہ ختم ہو رہی تھی جسے اب ایک سال بڑھا دیا گیا ہے۔ تاہم، امریکہ میں پہلے سے موجود غیر ملکی طلبہ اور موجودہ ایچ ون بی ویزا ہولڈرز کی تجدید کو اس 1 لاکھ ڈالر کی فیس سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے۔

ویزا قوانین میں ان سختیوں کے باعث گوگل کی پیرنٹ کمپنی الفابیٹ سمیت کئی بڑی امریکی تکنیکی کمپنیوں نے امریکہ کے بجائے بھارت اور دیگر ممالک میں اپنے ذیلی دفاتر اور بھرتیوں کا دائرہ کار بڑھانا شروع کر دیا ہے۔

امریکی سیاست میں اس ویزا پروگرام پر شدید اختلاف پایا جاتا ہے؛ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس سے مقامی شہریوں کی ملازمتیں متاثر ہوتی ہیں، جبکہ ٹیک کمپنیاں اسے امریکی معیشت کی ترقی اور ہنر مندوں کی کمی کو پورا کرنے کے لیے لازمی قرار دیتی ہیں۔