امریکی وفاقی جج نے غیر ملکی طلبہ اور صحافیوں کے امریکہ میں قیام کی مدت محدود کرنے سے متعلق ٹرمپ انتظامیہ کے نئے ویزا ضوابط کے فوری نفاذ پر عارضی حکمِ امتناع (Preliminary Injunction) جاری کرتے ہوئے پالیسی کو عملدرآمد سے روک دیا ہے۔
ڈسٹرکٹ جج ڈینس سیلر (Dennis Saylor) نے یہ حکم ڈیپارٹمنٹ آف ہوم لینڈ سیکیورٹی (DHS) کے نئے ویزا قوانین لاگو ہونے سے محض ایک دن قبل جاری کیا۔ اس فیصلے سے مرکزی قانونی چیلنج پر حتمی فیصلہ آنے تک ان متنازع پالیسیوں کا نفاذ عارضی طور پر معطل ہو گیا ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے پیش کیے جانے والے نئے ضوابط میں بین الاقوامی طلبہ اور غیر ملکی میڈیا نمائندوں کے قیام کی مدت پر سخت حدود کا تعین کیا گیا تھا:
نئے قوانین کے تحت غیر ملکی طلبہ کو توسیع کی درخواست دینے سے پہلے امریکہ میں زیادہ سے زیادہ 4 سال تک قیام کی اجازت دی جانی تھی۔ جبکہ موجودہ قوانین کے تحت طلبہ کو ان کی تعلیم کے تمام تر دورانیے (Duration of Status) تک قیام کی اجازت ہوتی ہے۔
بین الاقوامی صحافی (Foreign Journalists): غیر ملکی صحافیوں کے قیام کی مدت کو گھٹا کر صرف 240 دن کرنے کی تجویز تھی (جس میں توسیع کی گنجائش رکھی گئی تھی)، جبکہ چینی صحافیوں کے لیے قیام کی حد کو مزید سخت کر کے صرف 90 دن تک محدود کیا گیا تھا۔
اس متنازع پالیسی کو امریکی یونیورسٹیوں، اساتذہ اور صحافیوں کے ایک مشترکہ اتحاد (Coalition) نے عدالت میں چیلنج کیا تھا۔
حکم نامے میں جج ڈینس سیلر نے امریکی حکومت کے دلائل پر سنگین سوالات اٹھائے اور خبردار کیا کہ ان قواعد سے ڈیپارٹمنٹ آف ہوم لینڈ سیکیورٹی (DHS) کے حکام کو اپیل کے حق کے بغیر ویزا توسیع کی درخواستیں مسترد کرنے کے بے پناہ اور وسیع اختیارات مل جائیں گے۔ جج نے اپنے میمو میں حکومت کی جانب سے دی گئی قومی سلامتی کی منطق پر سخت تنقید کرتے ہوئے اسے “مضحکہ خیز حد تک بے بنیاد” (Borders on the absurd) قرار دیا۔
امریکی وفاقی عدالت نے اس مقدمے کی اگلی باقاعدہ سماعت 2 اکتوبر کے لیے مقرر کی ہے۔





