لوڈ ہو رہا ہے...
00:00:00
ہیڈ لائنز

امریکہ نےمدارمیں اسپیس کنٹرول ہتھیاروں کی تعیناتی کا پہلی بارباضابطہ اعتراف کرلیا

لنک کاپی ہو گیا ہے!

John Doe

واشنگٹن: امریکی حکومت اور محکمہ دفاع نے تاریخ میں پہلی بار باضابطہ طور پر تسلیم کیا ہے کہ اس نے زمین کے مدار (Earth’s Orbit) میں جدید اسپیس کنٹرول ہتھیار (Space Control Weapons) سیکیورٹی مقاصد کے لیے تعینات کر رکھے ہیں۔

امریکی فضائیہ کے سیکرٹری ٹرائے مینک (Troy Meink) نے اس تاریخی اور حساس پیشرفت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ زمین اور خلا میں تیزی سے بدلتے ہوئے عالمی خطرات سے نمٹنے کے لیے یہ اقدام ناگزیر تھا۔ ان کے مطابق مدار میں موجود یہ ہتھیار کسی بھی بدخواہ یا دشمن ملک کی جارحانہ کارروائی کے خلاف امریکی افواج اور خلائی اثاثوں کی حفاظت کو یقینی بنائیں گے۔

اگرچہ ٹرائے مینک نے سیکیورٹی وجوہات کی بناء پر اس ہتھیار کی تکنیکی صلاحیتوں اور اسے خلا میں بھیجے جانے کی حتمی تاریخ کو راز میں رکھا ہے، تاہم امریکی اسپیس فورس (US Space Force) کے ترجمان نے اس حوالے سے مزید وضاحت فراہم کی:

ترجمان کے مطابق یہ نظام ضرورت پڑنے پر خلا میں موجود دشمن کے سیٹلائٹس یا سٹریٹجک اثاثوں کو سگنل جامنگ کے ذریعے مفلوج یا مکمل تباہ کرنے کی اہلیت رکھتا ہے۔

اس ٹیکنالوجی کو خلا میں دفاعی تحفظ اور ضرورت پڑنے پر شدید جارحانہ کارروائیوں، دونوں مقاصد کے لیے استعمال کیا جا سکے گا۔

یاد رہے کہ 1967 کی آؤٹر اسپیس ٹریٹی (Outer Space Treaty) کے تحت مدار میں بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں (WMDs) اور ایٹمی بموں کی تعیناتی پر مکمل عالمی پابندی عائد ہے، تاہم امریکہ کا موقف ہے کہ یہ تکنیک عام روایتی اسپیس ڈیفنس کنٹرول کا حصہ ہے۔

امریکی اعلان پر ردِعمل دیتے ہوئے چین کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے خلا میں امریکی ملٹری پاور کی توسیع کو عالمی امن کے لیے شدید خطرہ قرار دیتے ہوئے اس کی سخت مخالفت کی ہے:

چین نے امریکی اقدامات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ خلا کے پرامن استعمال کا حامی ہے اور خلا کو جنگی میدان میں تبدیل کرنے کی ہر کوشش کی مذمت کرتا ہے۔

بیجنگ نے امریکہ سے مطالبہ کیا کہ وہ خلا میں ہتھیاروں کی دوڑ کو فوراً روکے اور ذمہ دارانہ طرزِ عمل اپنا کر عالمی اسٹریٹجک استحکام کو یقینی بنائے۔

ماہرینِ دفاع کے مطابق اس اعتراف کے بعد دنیا کی بڑی طاقتوں کے درمیان خلائی دوڑ (Space Race) میں اک نئے اور انتہائی خطرناک موڑ کا آغاز ہو چکا ہے۔