آئرلینڈ: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے دو روزہ دورہ آئرلینڈ کے اختتام پر جمہوریہ آئرلینڈ سے درآمد کی جانے والی تمام آئرش وسکی (Irish Whiskey) پر سے 15 فیصد امریکی ٹیرف (کسٹم ڈیوٹی) مکمل طور پر ختم کرنے کا بڑا اعلان کر دیا ہے۔
ٹرمپ نے یہ اعلان کاؤنٹی کلیئر میں واقع اپنے ٹرمپ انٹرنیشنل گولف ریزارٹ (Doonbeg) میں ‘آئرش اوپن’ کے فاتح گولفر شین لوری (Shane Lowry) کو ٹرافی پیش کرنے کی تقریب کے دوران کیا۔
اس سے قبل جمہوریہ آئرلینڈ (Republic of Ireland) میں تیار ہونے والی وسکی پر یورپی یونین کی اشیاء پر لاگو 15 فیصد امریکی ٹیرف عائد تھا، جبکہ برطانوی قلمرو شمالی آئرلینڈ (Northern Ireland) کی وسکی مئی میں برطانوی مصنوعات پر ٹیرف کے خاتمے کے بعد اس ٹیکس سے آزاد تھی۔
ٹرمپ کا مؤقف: صدر ٹرمپ نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آئرش وزیراعظم میہال مارٹن (Micheál Martin) اور گولفر شین لوری نے ان سے وسکی پر ٹیکس کے معاملے پر بات کی تھی، جس کے بعد انہوں نے ریاستہائے متحدہ امریکہ کی جانب سے اسے ختم کرنے کا فیصلہ کیا۔
سپلائی چین کا مسئلہ: کئی شمالی آئرش برانڈز جمہوریہ آئرلینڈ میں قائم گریٹ ناردرن ڈسٹلری سے وسکی حاصل کرتے تھے، جس کی وجہ سے انہیں برطانوی مصنوعات کے باوجود یورپی یونین کا پروڈیوسر شمار کر کے 15 فیصد ٹیرف دینا پڑ رہا تھا۔ اس اعلان کے بعد یہ تجارتی الجھن اور تفریق ختم ہو جائے گی۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے آئرلینڈ کے دورے کے دوران متحدہ آئرلینڈ (United Ireland) کے قیام کے اپنے نظریے کا بھی اعادہ کیا، جس کے بعد وہ شینن ایئرپورٹ سے ایئر فورس ون کے ذریعے واشنگٹن کے لیے روانہ ہو گئے۔





