واشنگٹن / اوٹاوا:امریکہ اور کینیڈا کے درمیان جاری تجارتی کشیدگی باضابطہ طور پر ایک انتہائی تشویشناک مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ منگل کے روز کینیڈین حکومت نے جواب کارروائی کرتے ہوئے تقریباً 20 ارب امریکی ڈالر (27.6 ارب کینیڈین ڈالر) کی امریکی مصنوعات پر 15 فیصد سے 50 فیصد تک اضافی گمرکی ڈیوٹی (ٹیرف) لاگو کر دی ہے۔
کینیڈا نے یہ اقدام امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کینیڈین مصنوعات پر لگائے گئے 50 فیصد ٹیرف کے جواب میں ‘ڈالر کے بدلے ڈالر’ پالیسی کے تحت اٹھایا ہے.
سٹیل، ایلومینیم، ڈیرئی مصنوعات (دودھ اور مکھن)، کاغذی اشیاء، گھریلو الیکٹرانکس، کپڑے اور زرعی مشینری کو کینیڈین ٹیرف کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔
صدر ٹرمپ نے سماجی رابطے کی سائٹ پر دھمکی دی ہے کہ کینیڈا کی مشہور طیارہ ساز کمپنی ‘بمبارڈیئر’ پر امریکہ میں فروخت کی مکمل پابندی عائد کر دی جائے گی جب تک وہ اپنے طیارے امریکہ میں تیار نہ کرے۔
ٹریفک اور خودکار گاڑیوں پر 50٪ ڈیوٹی: صدر ٹرمپ نے کینیڈین گاڑیوں اور پارٹس پر یکم جنوری سے 50 فیصد تک ٹیرف بڑھانے کی دھمکی بھی دی ہے۔
امریکی اور کینیڈین حکام کے درمیان کئی ہفتوں پر محیط مذاکرات ناکام ہو گئے:کینیڈین وزیراعظم مارک کارنی (Mark Carney) کا کہنا تھا کہ امریکہ کینیڈا کی فرانسیسی زبان (کیوبیک کلچر) اور ثقافتی تحفظات کی تعظیم کرنے سے انکاری تھا۔
امریکی تجارتی حکام کے مطابق مذاکرات میں تعطل کینیڈین سائیڈ سے ٹرکوں پر ٹیرف میں چھوٹ کی آخری لمحے کی منگ کی وجہ سے پیدا ہوا۔
کینیڈا کے مختلف صوبوں کی جانب سے سخت ردِعمل کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ اونٹاریو کے پریمیئر ڈوگ فورڈ نے خبردار کیا ہے کہ اگر ٹیرف کی جنگ نہ رکی تو وہ نیویارک اور مشی گن جیسی امریکی ریاستوں کو فراہم کی جانے والی بجلی کی سپلائی منقطع یا محدود کر سکتے ہیں۔ معاشی ماہرین کا ماننا ہے کہ آئندہ سال تک دونوں ممالک کے صارفین کو شدید مہنگائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔





