جکارتا: انڈونیشیا میں سنڈا اسٹریٹ کے قریب واقع مشہور آتش فشاں ‘آناک کراکاٹاؤ’ (Mount Anak Krakatau) کے شدید دھماکے اور راکھ کے اخراج کے بعد ملک بھر میں فضائی نظام شدید متاثر ہو گیا ہے۔ انڈونیشین حکام نے دارالحکومت جکارتا کے مرکزی ہوائی اڈوں سمیت 8 ایئرپورٹس کو عارضی طور پر بند کر دیا ہے۔
انڈونیشیا کے وزیرِ مواصلات دودی پورواگندھی (Dudy Purwagandhi) کے مطابق، اس قدرتی آفت کی وجہ سے 2,000 سے زائد پروازیں تاخیر یا منسوخی کا شکار ہوئی ہیں جبکہ 2 لاکھ 70 ہزار سے زائد مسافر ایئرپورٹس پر پھنس کر رہ گئے ہیں۔
آتش فشاں سے نکلنے والے راکھ کے بادل 50,000 فٹ (15,000 میٹر) کی بلندی تک پہنچ گئے ہیں جس کی وجہ سے جکارتا کا اہم ترین ہوائی اڈہ ‘سوئیکارنو ہاتا’ (Soekarno-Hatta) اور ‘حلیم’ ایئرپورٹ بند کر دیے گئے۔
بالی کے ‘آئی گستی نگوراہ رائے’ (I Gusti Ngurah Rai) ایئرپورٹ پر بھی جکارتا کے لیے پروازیں منسوخ کی گئی ہیں۔ گنوڑا انڈونیشیا، سنگاپور ایئرلائنز، ایئر ایشیا، اور پیلیٹا ایئر کی متعدد پروازیں منسوخ ہو چکی ہیں
عالمی مسافروں کی پریشانی: برطانیہ کی وزارتِ خارجہ (FCDO) نے اپنے شہریوں کے لیے ٹریول ایڈوائزری جاری کر دی ہے۔ سنگاپور، تھائی لینڈ اور دیگر ممالک کی پروازیں منسوخ ہونے سے سواریاں ایئرپورٹس پر پھنسی ہوئی ہیں۔
جکارتا انتظامیہ اور لامپونگ کی صوبائی حکومت نے راکھ سے شہریوں کو محفوظ رکھنے کے لیے اسکولوں میں حضوری تعلیم معطل کر کے آن لائن کلاسز شروع کر دی ہیں۔ قومی ڈیزاسٹر ایجنسی نے شہریوں کو باہر نکلتے وقت فیس ماسک پہننے کی ہدایت کی ہے۔
سنڈا اسٹریٹ سے گزرنے والے بحری جہازوں کو آتش فشاں کے گرد 3 کلومیٹر کے دائرے (Exclusion Zone) سے دور رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ جیولوجی ایجنسی کی سربراہ لانا ساریا نے واضح کیا کہ اس حالیہ دھماکے سے فی الحال تسونامی کا کوئی خطرہ نہیں ہے۔




