واشنگٹن: ریاستہائے متحدہ امریکہ میں ڈیزل ایندھن کی قومی اوسط قیمت تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے، جس نے معاشی ماہرین اور عوامی حلقوں میں مہنگائی کی نئی لہر سے متعلق شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔
رپورٹ کے مطابق 4 ستمبر 2026ء کو امریکہ بھر میں ڈیزل کی اوسط قیمت تقریباً 5.88 ڈالر فی گیلن ریکارڈ کی گئی، جو کہ جون 2022ء میں قائم ہونے والے سابقہ ریکارڈ کو بھی پیچھے چھوڑ چکی ہے۔
امریکی مارکیٹ میں ڈیزل کی قیمتوں میں اس غیر معمولی اضافے کی بنیادی وجوہات سامنے آئی ہیں۔
یوکرین کی جانب سے روسی تیل کی ریفائنریوں پر کی جانے والی گولہ باری اور ڈرون حملوں کی وجہ سے عالمی سطح پر ڈیزل کی رسد سخت متاثر ہوئی ہے۔
امریکہ کے مشرقی ساحلی علاقوں (East Coast) میں ڈیزل کے ذخائر تیزی سے ختم ہو رہے ہیں، جس کے باعث ایندھن کی فراہمی پر شدید دباؤ ہے۔
فصلوں کی کٹائی کے سیزن (Harvest Season) اور سردیوں کی آمد کی وجہ سے صنعتی اور ہیٹنگ ایندھن کے طور پر ڈیزل کی طلب میں مزید اضافے کی توقع ہے۔
معاشی ماہرین کے مطابق ڈیزل کی قیمت میں اضافے کا اثر صرف گاڑی مالکان تک محدود نہیں رہے گا۔ چونکہ ٹرکنگ صنعت، زرعی مشینری، مال برداری اور تعمیراتی شعبے کا تمام تر انحصار ڈیزل پر ہے، اس لیے لاجسٹکس اور ترسیل کے اخراجات بڑھنے سے مارکیٹ میں اشیائے خورونوش اور روزمرہ استعمال کی تمام مصنوعات کی قیمتوں میں شدید اضافہ متوقع ہے۔





