لوڈ ہو رہا ہے...
00:00:00
ہیڈ لائنز

نوبل انعام یافتہ ماہرِنفسیات کاسنسنی خیزدعویٰ: امریکی صدرڈونلڈٹرمپ کی ذہنی صحت اور ایٹمی ہتھیاروں تک رسائی شدیدخطرہ

لنک کاپی ہو گیا ہے!

John Doe

واشنگٹن: 1985ء میں نوبل امن انعام حاصل کرنے والی تنظیم کے رکن اور معروف امریکی ماہرِ نفسیات ہینری ڈیوڈ ابراہام (Henry David Abraham) نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ذہنی صلاحیتوں اور ایٹمی بٹن تک ان کی تنہا رسائی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انہیں پہلے سے کہیں زیادہ خطرناک قرار دے دیا ہے۔

سریس ایکس ایم (SiriusXM) کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ہینری ڈیوڈ ابراہام نے کہا کہ صدر ٹرمپ کی فیصلے کرنے کی صلاحیت، مزاج اور خود ضبطی کے مسائل میں مزید بگاڑ آیا ہے۔

ڈاکٹر ابراہام ان 36 ماہرینِ طب میں شامل ہیں جنہوں نے کانگریس میں داخل کردہ ایک کھلے خط پر دستخط کیے تھے، جس میں 25ویں ترمیم کے تحت صدر ٹرمپ کو ان کے عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ “اگر کسی ایئرلائن پائلٹ میں صدر جیسے آدھے اعراض یا علامات بھی پائی جائیں تو ہم اسے جہاز اڑانے کی اجازت ہرگز نہیں دیں گے۔ لیکن افسوس کہ صدر کی صحت سے متعلق تمام حقائق پر پردہ ڈالا جا رہا ہے۔”

ڈاکٹر ابراہام نے خبردار کیا کہ “جب کسی فرد کی رسائی ہزاروں ایٹمی ہتھیاروں تک ہو اور اس کی فیصلہ سازی کی صلاحیت متاثر ہو تو یہ انتہائی خوفناک ہے۔ اس بات کا شدید خدشہ ہے کہ وہ غصے یا ہیجانی کیفیت میں ایٹمی ہتھیار استعمال کرنے کا حکم دے دیں۔”

وائٹ ہاؤس نے ماہرینِ نفسیات کے ان ادعاات کو مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے۔ وائٹ ہاؤس کے ترجمان ڈیوس انگل (Davis Ingle) نے ڈاکٹر ابراہام کے بیان پر سخت ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ “ہینری ڈیوڈ ابراہام ٹرمپ کی مخالفت میں سیاسی مقاصد کے لیے بلا معائنے کی تنقید کر رہے ہیں اور وہ طبی شعبے کے لیے ایک داغ ہیں۔”

ترجمان نے مزید کہا کہ 80 سالہ صدر ٹرمپ مکمل طور پر فعال، چوکس اور امریکی تاریخ کے سب سے زیادہ متحرک صدر ہیں۔ خود صدر ٹرمپ نے بھی اپنے حالیہ طبی معائنے کے بعد کہا تھا کہ ان کی صحت کی تمام رپورٹیں بالکل درست آئی ہیں۔