اقوامِ متحدہ / نیویارک:اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے نائب مستقل مندوب سفیر عثمان جدون نے “کلچر آف پیس” (Culture of Peace) کے پروگرام آف ایکشن پر منعقدہ اعلیٰ سطحی فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پائیدار اور پختہ امن کے قیام کے لیے خواتین کی مکمل سیاسی شمولیت اور انہیں تعلیم و انصاف تک بلا تعطل رسائی فراہم کرنا بنیادی شرط ہے۔
سفیر عثمان جدون نے اپنے خطاب میں اس بات پر زور دیا کہ خواتین امن کی سب سے بڑی حامی ہیں، جبکہ امن کے نبودگی اور تنازعات کے دوران سب سے زیادہ متاثر بھی وہی ہوتی ہیں۔
پاکستانی مندوب نے واضح کیا کہ طویل تنازعات اور جنگوں کے شکار معاشروں کو خواتین کی قیادت کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ وہ زخمی معاشروں کو بحال کر سکیں۔
انہوں نے کہا کہ “جب خواتین امن مذاکرات کی قیادت کرتی ہیں تو امن زیادہ پائیدار اور طویل المدتی ہوتا ہے، لیکن جب خواتین کو سیاسی عمل اور مذاکرات کے کنارے پر رکھا جاتا ہے تو امن کی بنیادیں کمزور اور عارضی ثابت ہوتی ہیں۔”
عثمان جدون کا کہنا تھا کہ ایک مضبوط ‘کلچر آف پیس’ اسی وقت قائم ہو سکتا ہے جب خواتین کو فیصلے کرنے کے سیاسی عمل میں مساوی جگہ دی جائے اور انہیں معیاری تعلیم اور انصاف تک مکمل رسائی حاصل ہو۔
اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے اس موثر بیان کو بین الاقوامی برادری میں پذیرائی ملی ہے، جہاں پاکستان نے تنازعات کے حل اور امن کے فروغ کے لیے خواتین کے کلیدی کردار کی بھرپور حمایت کا اعادہ کیا ہے۔





