لوڈ ہو رہا ہے...
00:00:00
ہیڈ لائنز

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا بیان AI کے استعمال کو شیطانی قرار دے دیا

لنک کاپی ہو گیا ہے!

John Doe

واشنگٹن:امریکی نائب صدر جے ڈی وینس (JD Vance) نے ایک پوڈکاسٹ انٹرویو کے دوران مذہبی اور صوفیانہ خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ “خدا کا زیادہ سے زیادہ کام کرنے کی کوشش کر رہے ہیں” اور اگر اس سے “دنیا کا خاتمہ” (End Times) بھی ہوتا ہے تو انہیں اس پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔

یہ بات انہوں نے 22 سالہ انجلیکی (Evangelical) اینکر برائس کرافورڈ (Bryce Crawford) کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہی۔ دنیا کے خاتمے کے بارے میں مسیحی نظریات پر بات کرتے ہوئے جے ڈی وینس کا کہنا تھا: “کیا میں سمجھتا ہوں کہ ہم آخری ایام میں ہیں؟ مجھے معلوم نہیں۔ اس پر ضرورت سے زیادہ توجہ دینا نقصان دہ ہو سکتا ہے، لیکن اگر میرا کام دنیا کے خاتمے کی طرف لے جاتا ہے تو ٹھیک ہے، اور اگر اس سے ایک بہتر دنیا بنتی ہے جو میرے بعد بھی قائم رہے تو یہ بھی بہترین ہے۔”

جے ڈی وینس، جنہوں نے حال ہی میں کیتھولک عیسائیت قبول کرنے پر ایک کتاب بھی لکھی ہے، نے کہا کہ موجودہ دنیا کی کچھ چیزیں دیکھ کر انہیں حیرت نہیں ہوگی اگر “دجال” (Antichrist) ہمارے درمیان گھوم رہا ہو۔

انہوں نے مصنوعی ذہانت (AI) کے بڑھتے ہوئے استعمال پر تنقید کرتے ہوئے ایک واقف کار کی مثال دی جو شادی شدہ زندگی کے مسائل کے لیے AI کا سہارا لیتا ہے۔ وینس نے اس عمل کو “شیطانی” (Satanic) قرار دیا۔ مزید برآں، نائب صدر نے انکشاف کیا کہ عالمی رہنماؤں کے ساتھ بعض ملاقاتوں کے دوران انہوں نے ایک خاص قسم کی “روحانی تاریکی” (Spiritual Darkness) محسوس کی ہے جس سے ان کے اندر کے روحانی خطرے کی گھنٹیاں بج اٹھتی ہیں۔

انٹرویو کے دوران جے ڈی وینس نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اس تنازع شدہ اور اب ڈیلیٹ شدہ AI تصویر کا بھی دفاع کیا جس میں ٹرمپ کو حضرت عیسیٰؑ کی شکل میں دکھایا گیا تھا۔ انہوں نے وضاحت کی کہ صدر ٹرمپ کا مقصد کسی کی دل آزاری یا خدا کا مذاق اڑانا نہیں تھا بلکہ وہ صرف مزاحانہ انداز اپنا رہے تھے۔