جہ سے امریکی آٹو انڈسٹری کو نیا جلا ملی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2024 میں جب انہوں نے صدارتی مہم شروع کی تو فورڈ کمپنی ڈائرائٹ میں اپنا بڑا پلانٹ بند کرنے والی تھی، لیکن ٹیرف کے باعث اب وہ پلانٹ دن رات چل رہا ہے اور دنیا کے منافع بخش ترین آٹو پلانٹس میں شامل ہو چکا ہے۔
کینیڈا کے حوالے سے سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے امریکی صدر نے لکھا: “سب سے زیادہ استحصال کرنے والوں میں ایک نام کینیڈا کا ہے۔ مجھے نہ تو کینیڈین گاڑیاں چاہئیں، نہ کینیڈین پرزے اور نہ ہی کینیڈا کی کوئی دوسری چیز۔ وہ دہائیوں سے امریکہ کا استحصال کر رہے ہیں اور اب یہ سلسلہ ختم ہونے جا رہا ہے۔”
ٹرمپ نے مزید کہا کہ کینیڈین قیادت امریکی ریاست کی طرح برتاؤ چاہتی ہے، لیکن وہ کوئی امریکی ریاست نہیں ہے۔ انہوں نے کینیڈین کمپنیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر وہ امریکہ کے ساتھ کاروبار جاری رکھنا چاہتی ہیں تو فوری طور پر امریکہ منتقل ہو جائیں، کیونکہ امریکہ واپس آنے کی صورت میں ان پر کوئی ٹیرف لاگو نہیں ہوگا۔
واضح رہے کہ دو دیرینہ اتحادیوں کے درمیان تجارتی مذاکرات کی ناکامی کے بعد تعلقات شدید کشیدہ ہو چکے ہیں۔ امریکی انتظامیہ نے 22 اگست سے کینیڈا کی 20 ارب ڈالر کی مصنوعات پر 50 فیصد ٹیرف لاگو کر دیا تھا، جس کے جواب میں کینیڈا کی جانب سے بھی ستمبر میں امریکی مصنوعات پر اتنی ہی مالیت کے جوابی ٹیرف نافذ کیے جا رہے ہیں۔ فی الوقت وائٹ ہاؤس اور کینیڈین وزیراعظم مارک کارنی (Mark Carney) کے دفتر کی جانب سے اس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا ہے۔





