لوڈ ہو رہا ہے...
00:00:00
ہیڈ لائنز

غیرملکی طلبہ کی انٹرن شپ پرپابندی: ٹرمپ انتظامیہ نےسی پی ٹی(CPT)کےقواعدسخت کر دیے

لنک کاپی ہو گیا ہے!

John Doe

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے غیر ملکی طلبہ کے لیے عملی تربیتی پروگراموں اور انٹرن شپ کی اجازت، یعنی ‘کریکولر پریکٹیکل ٹریننگ’ (CPT) کی مانیٹرنگ سخت کرتے ہوئے قوانین محدود کرنے کی کوششیں شروع کر دی ہیں۔ نئی وفاقی ہدایات کی پاسداری نہ کرنے والی جامعات کو غیر ملکی طلبہ کے داخلے کی سرٹیفکیشن منسوخ کیے جانے کا بھی انتباہ دیا گیا ہے۔

امریکی امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (ICE) کے اسٹوڈنٹ اینڈ ایکسچینج وزیٹر پروگرام کی جانب سے جامعات کو جاری کیے گئے میمو اور اس کے اثرات کے اہم نکات درج ذیل ہیں۔

امریکی حکام کے مطابق عملی تربیت (CPT) صرف اسی صورت دی جا سکتی ہے جب وہ طالب علم کے باقاعدہ تعلیمی نصاب کا لازمی حصہ ہو۔

میمو میں متنبہ کیا گیا ہے کہ قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے تعلیمی اداروں کی غیر ملکی طلبہ کو داخلہ دینے کی اجازت (سرٹیفکیشن) ختم کی جا سکتی ہے۔

نئی ہدایات کے بعد یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، لاس اینجلس (UCLA) اور یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، برکلے (UC Berkeley) نے مخصوص ورک اتھارائزیشن درخواستوں پر کارروائی عارضی طور پر روک دی ہے۔

برکلے انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ ڈگری کی لازمی ضروریات سے متعلق CPT درخواستوں پر کارروائی معمول کے مطابق جاری رہے گی، جبکہ ماسٹرز تھیسس اور ڈاکٹریٹ تحقیق کی درخواستوں کے لیے طریقہ کار بحال کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔

محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کا کہنا ہے کہ بنیادی ضوابط وہی ہیں، لیکن ٹرمپ انتظامیہ کے تحت اس نظام کا غلط استعمال برداشت نہیں کیا جائے گا۔

ان نئی پابندیوں سے امریکہ میں زیرِ تعلیم پاکستانی اور دیگر بین الاقوامی طلبہ متاثر ہونے کا خدشہ ہے جو اپنی تعلیم کے دوران عملی تجربہ یا انٹرن شپ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔