واشنگٹن: کینیڈا کے ساتھ شدید ہوتی تجارتی جنگ کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کے روز ایک صدارتی حکم نامے پر دستخط کیے ہیں جس کے تحت ‘لیک اونٹاریو’ (Lake Ontario) کا نام فوری طور پر تبدیل کر کے ‘لیک امریکہ’ (Lake America) رکھ دیا گیا ہے۔
اوول آفس (Oval Office) میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ کینیڈین حکام کا رویہ انتہائی غیر مناسب ہے اور وہ امریکی کسانوں پر 400 فیصد تک ٹیرف عائد کر رہے ہیں۔ اس فیصلے کے ساتھ ہی وائٹ ہاؤس نے نیا نقشہ بھی جاری کیا ہے جس میں جھیل کو ‘لیک امریکہ’ کا نام دیا گیا ہے۔
کینیڈین وزیر اعظم مارک کارنی (Mark Carney) نے اس فیصلے کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یہ نام 400 سال سے زائد پرانا ہے اور کینیڈا اسے ہمیشہ ‘لیک اونٹاریو’ ہی کہے گا۔
کینیڈین وزیر اعظم نے امریکہ کے ساتھ تجارتی مذاکرات معطل کر دیے ہیں اور کہا ہے کہ امریکہ کینیڈا کو معاشی طور پر دبانے کی کوشش کر رہا ہے۔
امریکہ نے 20 ارب ڈالر مالیت کی کینیڈین مصنوعات جیسے چیز، وائن، بئیر اور سیمنٹ پر 50 فیصد ٹیرف عائد کر دیا ہے، جبکہ کینیڈا نے بھی 8 ستمبر سے جواب کارروائی کا اعلان کیا ہے۔
امریکی ریاست نیویارک کی گورنر کیتھی ہوچل (Kathy Hochul) نے صدر ٹرمپ کے اس فیصلے کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ نیویارک اس جھیل کو پرانے نام سے ہی پکارے گا۔
امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس (JD Vance) نے کینیڈا پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی دفاعی ذمہ داریوں میں ناکام رہا ہے اور چینی مصنوعات کے لیے پچھلے دروازے کے طور پر کام کر رہا ہے۔ تجارتی تنازع بڑھنے سے دونوں ممالک کی سرحدی ریاستوں اور تجارتی تعلقات پر گہرے اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔





