واشنگٹن: ایک امریکی وفاقی عدالت نے جمعرات کے روز فیصلہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے آرٹیفیشل انٹیلی جنس (AI) کمپنی اینتھروپک (Anthropic) پر فروری میں عائد کی گئی پابندیاں غیر قانونی تھیں۔ عدالت کے مطابق حکومت نے پینٹاگون (Pentagon) پر عوامی سطح پر تنقید کرنے پر کمپنی کو انتقام کا نشانہ بنایا۔
جج ریٹا لِن (Judge Rita Lin) نے 59 صفحات پر مشتمل فیصلے میں واضح کیا کہ “قومی سلامتی کا غیر منقطع جواز حکومت کے نقادوں کو سزا دینے یا ان سے بدلہ لینے کا کھلے عام جواز نہیں بن سکتا۔” عدالت نے پینٹاگون کی جانب سے اینتھروپک کو “سپلائی چین رسک” (Supply Chain Risk) قرار دینے کے فیصلے کو منسوخ کر دیا ہے۔
اینتھروپک نے امریکی ملٹری کو اپنے اے آئی ماڈل کلواڈ (Claude) کو خودکار ہتھیاروں (Autonomous Weapons) اور ملکی سطح پر نگرانی (Domestic Surveillance) کے لیے استعمال کرنے سے روک دیا تھا۔
یہ پہلا موقع تھا کہ کسی امریکی کمپنی کو غیر ملکی کمپنیوں کے لیے مخصوص اس قانون کے تحت سپلائی چین کے لیے خطرہ قرار دیا گیا۔
اینتھروپک نے اپنے دائر کردہ مقدمے میں موقف اختیار کیا کہ حکومت نے امریکی آئین کی پہلی ترمیم (First Amendment) کے تحت اس کے آزادیِ اظہارِ رائے کے حق کو پامال کیا۔
کمپنی کے مطابق پینٹاگون کے اس اقدام سے اسے اربوں ڈالر کا کاروباری اور شہرت کا نقصان برداشت کرنا پڑ رہا تھا۔
اینتھروپک کے ترجمان نے عدالت کے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے جبکہ امریکی وزارتِ انصاف اس فیصلے کے خلاف اپیل کر سکتی ہے۔





