نیویارک: میئر زوہران کوامے ممدانی اور کنزیومر اینڈ ورکر پروٹیکشن ڈیپارٹمنٹ (DCWP) کے کمشنر سیموئیل اے اے لیوائن نے شہر بھر کی کار رینٹل کمپنیوں کے خلاف ایک جامع تفتیشی مہم کے نتائج کا اعلان کر دیا ہے۔
مئی اور جولائی کے درمیان کی گئی اس مہم کے دوران 62 معائنے کیے گئے اور نیویارک کے کنزیومر پروٹیکشن لاء کی خلاف ورزی پر 56 سمن جاری کیے گئے، جو کہ پچھلی ایک دہائی میں اس صنعت کا پہلا بڑا جائزہ ہے۔
معائنے کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ اکثر کاروباری ادارے قیمتوں کے بورڈ نمایاں جگہوں پر آویزاں کرنے اور گاہکوں کو پیشگی قیمتیں بتانے میں ناکام رہے، جبکہ متعدد کے پاس واضح ریفنڈ پالیسی بھی موجود نہیں تھی۔
میئر ممدانی کا کہنا تھا کہ گاڑی کرائے پر لیتے وقت صارفین کو رقم کی پہلے سے مکمل معلومات ہونی چاہئیں اور انتظامیہ مبہم قیمتوں کے ذریعے منافع کمانے والوں کا احتساب کرے گی۔
کار رینٹل کمپنیوں کے لیے لازمی ہے کہ وہ طے شدہ وقت کے آدھے گھنٹے کے اندر گاہک کو اسی قیمت پر گاڑی فراہم کریں، جب تک گاہک کو پہلے سے غیر یقینی کی اطلاع نہ دی گئی ہو۔
تمام کمپنیوں کو کم سے کم کرایہ اور اس سے منسلک تمام شرائط و قیمتیں گاہک کے سامنے واضح کرنا لازمی ہوگا۔
ڈپٹی میئر فار اکنامک جسٹس جولی سو نے واضح کیا کہ نیویارکرز پر غیر اعلانیہ اخراجات کا بوجھ ڈالنے والی کمپنیوں کو نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔
ڈی سی ڈبلیو پی نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ کسی بھی شکایت کی صورت میں nyc.gov/Consumers پر رجوع کریں۔ اگر بک کی گئی گاڑی دستیاب نہ ہو تو کمپنی اسی گنجائش اور معیار کی دوسری گاڑی فراہم کرنے کی پابند ہے۔





