نیویارک: میئر زوہران ممدانی اور معاشی انصاف کی ڈپٹی میئر جولی سو (Julie Su) نے نیویارک شہر کی معاشی ترقی اور جدت کے اگلے مرحلے کی رہنمائی کے لیے 15 معروف کاروباری رہنماؤں پر مشتمل “بزنس ایڈوائزری کونسل” کے قیام کا اعلان کیا ہے۔
یہ کونسل سہ ماہی بنیادوں پر میئر اور ڈپٹی میئر سے ملاقات کرے گی اور شہر کی معیشت کو مضبوط بنانے کے لیے تزویراتی مشورے فراہم کرے گی۔
یہ کونسل فنانس، ٹیکنالوجی، ریئل اسٹیٹ، کھیل، تفریح، ریٹیل اور ہیلتھ کیئر جیسے اہم شعبوں پر سٹی ہال کی رہنمائی کرے گی۔
نیویارک کے مضبوط ترین شعبوں (بائیوٹیک، فنانس، میڈیا وغیرہ) کو عالمی سطح پر مزید وسعت دینا اور ہنر مند افراد کو شہر میں برقرار رکھنا۔
برانڈن بلیک ووڈ (CEO برانڈن بلیک ووڈ نیویارک)، پرسیلا سمز براؤن (CEO املگامیٹڈ بینک)، کے یا کلارک (CEO نیویارک لبرٹی)، مارکس سیموئلسن (معروف شیف)، حمدی اولوکایا (بانی چوبانی)، اور ڈوگ اسٹینر (چیئرمین اسٹینر اسٹوڈیوز) شامل ہیں۔
جولائی 2026 تک نیویارک میں مجموعی ملازمتوں کی تعداد 4,852,400 کی ریکارڈ سطح پر پہنچ چکی ہے۔
شہر میں بے روزگاری کی شرح کم ہو کر 5.0% رہ گئی ہے، جبکہ رواں سال کے اوائل سے VC فنڈنگ میں 21.2 ارب ڈالر جمع کیے گئے ہیں جو پچھلے سال کے مقابلے میں 102 فیصد زیادہ ہے۔
میئر ممدانی کے مطابق سٹی ہال کے دروازے کاروباری رہنماؤں کے لیے ہمیشہ کھلے ہیں، اور اس کونسل کی تشکیل کا مقصد نیویارک کو نیا بزنس شروع کرنے اور کیریئر بنانے کے لیے دنیا کی بہترین جگہ بنانا ہے۔





