لوڈ ہو رہا ہے...
00:00:00

نیپال اورچین کےسرحدی علاقے میں زلزلےکےبعد گلیشیئراورمٹی کاتودہ گرنےسےتباہی،160سےزائد ہلاک اورسینکڑوں لاپتا

لنک کاپی ہو گیا ہے!

John Doe

کاٹھمنڈو/بیجنگ: نیپال اور چین کے زیرِ انتظام تبت کے ہمالیائی سرحدی علاقے میں 4.4 شدت کے زلزلے کے بعد گلیشیئر کے نچلے حصے کے انہدام اور مٹی کے تودے گرنے سے تباہ کن سیلاب آ گیا ہے۔ اس قدرتی آفت نے بڑے پیمانے پر تباہی مچاتے ہوئے سڑکوں، مکانات، گاڑیوں اور بجلی کے منصوبوں کو بہا دیا ہے، جس کے نتیجے میں مجموعی طور پر 160 سے زائد افراد ہلاک جبکہ 700 سے زائد مقامی افراد اور سیاح لاپتا ہو گئے ہیں۔

نیپال کے وزیراعظم کے دفتر کے مطابق صرف نیپال سے 157 لاشیں برآمد ہو چکی ہیں اور 484 سیاح لاپتا ہیں جن میں 391 غیر ملکی (100 سے زائد بھارتی، 12 برطانوی اور 3 امریکی) شامل ہیں۔

دوسری جانب چین کے علاقے تبت کے گیریونگ زون میں 3 افراد ہلاک اور 265 لاپتا ہیں، جبکہ ایک ہائیڈرو پاور منصوبے پر کام کرنے والے جنوبی کوریا کے 8 شہری بھی لاپتا افراد میں شامل ہیں۔

4.4 شدت کے زلزلے کے باعث گلیشیئر اور چٹانوں پر مشتمل تودہ دریائے لہینڈے میں جا گرا، جس سے اچانک فلیش فلڈ پیدا ہوا۔

یہ واقعہ تبت میں واقع ہندوؤں کے مقدس مقام ‘کیلاش مانسروور’ کے مرکزی راستے پر پیش آیا جہاں ہر سال ہزاروں زائرین سفر کرتے ہیں۔

پہاڑی علاقوں میں سڑکیں اور مواصلاتی نظام تباہ ہونے کے باعث ہیلی کاپٹروں اور ڈرونز کی مدد سے امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔

سیلابی ریلے کی بھارت کی جانب پیش قدمی کے خدشے کے تحت اتر پردیش اور بہار میں الرٹ جاری کر کے ہزاروں افراد کا انخلا شروع کر دیا گیا ہے۔