نیویارک: نیویارک اسٹیٹ میں نیا قانون نافذ العمل ہونے کے بعد ناساؤ کاؤنٹی کے ایگزیکٹو بروس بلیک مین نے وفاقی امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (ICE) کے ساتھ اپنے تمام باضابطہ معاہدے ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ اس فیصلے کے ساتھ ہی کاؤنٹی انتظامیہ اور نیویارک کی ریاستی قيادت کے درمیان گزشتہ چند ہفتوں سے جاری کشیدگی کا خاتمہ ہو گیا ہے۔
بروس بلیک مین نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ نیویارک کی اٹارنی جنرل لیٹیا جیمز کی جانب سے سبپینا (قانون کاؤنٹر نوٹس) موصول ہونے کے بعد کاؤنٹی کے وکیل نے آئس (ICE) کو معاہدے کی منسوخی کا باقاعدہ نوٹس بھیج دیا ہے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ قانونی ٹیم نے اس قانون پر عملدرآمد سے بچنے کی ہر ممکن کوشش کی، تاہم بالآخر قانون کی پاسداری کرنا پڑی۔
نیویارک کی گورنر کیتھی ہوچول کی جانب سے منظور کردہ اس نئے قانون کے تحت مقامی پولیس یا کاؤنٹی اداروں کو آئس (ICE) کے ساتھ 287(g) کے سول امیگریشن معاہدے برقرار رکھنے سے روک دیا گیا ہے۔
بروس بلیک مین نے اعلان کیا کہ ناساؤ کاؤنٹی کا شیرف اس نئے قانون کے خلاف دائر کردہ اس مقدمے کا حصہ بنے گا جس میں نیویارک کے دیگر 15 شیرفس بھی مدعی کے طور پر شامل ہیں۔
یہ قانونی تنازع ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کیتھی ہوچول اور بروس بلیک مین گورنر کے عہدے کے لیے انتخابی میدان میں ایک دوسرے کے مدِ مقابل ہیں۔ گورنر ہوچول کی مہم نے بروس بلیک مین پر آئس کے پرتشدد واقعات کی حمایت کرنے کے الزامات بھی عائد کیے ہیں۔
اگرچہ ناساؤ کاؤنٹی نے 287(g) کا رسمی معاہدہ منسوخ کر دیا ہے، لیکن بلیک مین کا کہنا ہے کہ وہ قانون کی حدود میں رہتے ہوئے دیگر وفاقی اداروں کی طرح آئس (ICE) کے ساتھ تکنیکی بنیادوں پر تعاون جاری رکھیں گے۔





