لوڈ ہو رہا ہے...
00:00:00
ہیڈ لائنز

امریکہ اورکینیڈاکےدرمیان تجارتی جنگ ٹل گئی: ٹرمپ کا50 فیصدٹیرف عارضی طورپرمعطل کرنے کااعلان

لنک کاپی ہو گیا ہے!

John Doe

واشنگٹن / اوٹاوا (ویب ڈیسک): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کینیڈا کی 20 ارب ڈالر کی برآمدات پر 50 فیصد بوجھ ڈالنے والے نئے ٹیرف کے نفاذ سے محض چند گھنٹے قبل ان میں تین دن کے لیے عارضی التوا کا اعلان کیا ہے۔

یہ پیش رفت دونوں ممالک کے حکام کے درمیان منگل کی شام ہونے والے اہم مذاکرات کے بعد سامنے آئی ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں بتایا کہ دستاویزات کی حتمی منظوری سے مشروط معاہدے کی بنیاد پر ٹیرف میں التوا کیا گیا ہے۔ کینیڈین وزیرِ اعظم مارک کارنی نے بھی معاہدے کی جانب “بڑی پیش رفت” کی تصدیق کی ہے، تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس سمت میں مزید کام باقی ہے۔

کینیڈا اور امریکہ کے سفارتی و تجارتی تعلقات میں گزشتہ ایک سال سے سخت کشیدگی دیکھنے میں آئی ہے.

امریکہ کی جانب سے مجوزہ 50 فیصد ٹیرف سے کینیڈا کی وائن (شراب) اور ہاکی اسٹکس سمیت کئی اہم مصنوعات شدید متاثر ہو رہی تھیں۔

ٹرمپ نے اپنے بیان میں یہ اشارہ بھی دیا کہ متنازعہ ‘کیسٹون ایکس ایل (Keystone XL)’ آئل پائپ لائن منصوبے کو دوبارہ شروع کیا جا سکتا ہے۔ 1,200 میل طویل یہ منصوبہ 2021 میں جو بائیڈن نے ماحولیاتی اور مقامی قبائل کے اعتراضات کی بنا پر منسوخ کر دیا تھا۔

فروری 2025 میں امریکہ نے بارڈر سیکیورٹی اور منشیات کی اسمگلنگ روکنے کے نام پر کینیڈا پر 25 فیصد ٹیرف لگایا تھا، جس کے جواب میں کینیڈا نے بھی جوابی اقدامات کیے تھے۔

جولائی 2026 میں امریکہ نے کینیڈا کی طرف سے امریکی گاڑیوں، ڈائری پروڈکٹس اور الکوحل کے ساتھ مبینہ امتیاز کو بنیاد بنا کر ٹیرف 50 فیصد کرنے کا دھمکی آمیز اعلان کیا تھا۔

سال 2024 کے اعداد و شمار کے مطابق امریکہ اور کینیڈا کے درمیان سالانہ تجارتی حجم تقریباً 909 ارب ڈالر تھا، جس کی وجہ سے یہ نیا ٹیرف کینیڈین تاجروں کے لیے معاشی تباہی کا سبب بن سکتا تھا۔