روم / بولوگنا (ویب ڈیسک): اٹلی کے شہر بولوگنا (Bologna) کے علاقے پیلاسترو (Pilastro) میں 42 سالہ مراکشی نژاد تاجر عبدالرحیم فقیر (Abderrahim Fakir) کی پولیس حراست اور زبردستی قابو پانے کے دوران ہلاکت کے بعد پورے ملک میں شدید غصہ اور احتجاجی مظاہرے شروع ہو گئے ہیں۔
وائرل ویڈیو میں دو پولیس اہلکاروں کو عبدالرحیم کو زمین پر دبا کر ہتھکڑیاں لگاتے دیکھا جا سکتا ہے، جبکہ وہ رحم کی اپیلیں کرتا رہا اور بالاخر اس کا جسم بے حس و حرکت ہو گیا۔
اس واقعے نے وزیراعظم جیورجیا میلونی (Giorgia Meloni) کی دائیں بازو کی مخلوط حکومت کی سخت پولیسنگ، مہاجرین سے متعلق پالیسیوں اور حال ہی میں منظور کیے گئے متنازعہ سیکیورٹی بل کو شدید عوامی و قانونی تنقید کی زد میں لا کھڑا کیا ہے۔
اس کیس کو اٹلی کے نئے سیکیورٹی قانون کے نفاذ کا پہلا بڑا امتحان قرار دیا جا رہا ہے.
اہلکاروں کو قانونی تحفظ: نئے قانون کے تحت حکومتی و پولیس اہلکاروں کو کارروائی کے دوران ‘سیلف ڈیفنس’ یا ‘ڈیوٹی کے تحفظ’ کا قانونی کور فراہم کیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ 2 پولیس اہلکاروں اور 4 طبی کارکنوں کے خلاف قتلِ خطاء (Involuntary Manslaughter) کی تحقیقات کے باوجود ان کے نام فی الحال باضابطہ مجرمانہ ملزمان کے طور پر درج نہیں کیے گئے۔
اہلکاروں کی سروس میں واپسی: قانونی تحفظ کی بنا پر دونوں پولیس اہلکار پیر کے روز واپس اپنی ڈیوٹی پر بحال ہو گئے ہیں، جس پر مقتول کے وکیل فابیو انسیلمو (Fabio Anselmo) نے شدید ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ “یہ قانون جرم کر کے بچ نکلنے (Impunity) کی راہ ہموار کر رہا ہے۔”
ابتدائی پوسٹ مارٹم: ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق ہلاکت کی وجہ دم گھٹنا اور پھیپھڑوں پر شدید دباؤ (Lung Compression) بتائی گئی ہے۔
یہ واقعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب وزیراعظم جیورجیا میلونی آئندہ عام انتخابات کے لیے سیکیورٹی اور امگریشن کو اپنا اہم سیاسی منشور بنا رہی ہیں۔ دوسری جانب حقوقِ انسانی کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ اس طرح کے قوانین سے پولیس کو لا محدود اختیارات مل رہے ہیں۔





