نئی دہلی: بھارت میں ‘کاکروچ جنتا پارٹی’ کے بانی ابھیجیت دیپکے نے سنسنی خیز انکشاف کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ انہیں حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (BJP) میں شمولیت اختیار نہ کرنے پر بارہا جان سے مارنے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔
اورنگ آباد میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ابھیجیت دیپکے نے بتایا کہ انہیں فون کالز اور نئی دہلی کے جنتر منتر پر احتجاج کے دوران مسلسل خبردار کیا جاتا رہا کہ اگر انہوں نے اپنا مؤقف تبدیل نہ کیا تو انہیں گولی مار دی جائے گی۔
ابھیجیت دیپکے نے طنزیہ انداز میں بھارتی حکومت اور آر ایس ایس (RSS) پر تنقید کرتے ہوئے کہا: ”یہی بی جے پی اور آر ایس ایس کی ’محبت کی زبان‘ ہے، جس میں کہا جاتا ہے کہ ہمارے ساتھ آ جاؤ، ورنہ تمہارے یا تمہارے اہلِ خانہ کے ساتھ برا سلوک کیا جائے گا۔“
انہوں نے مزید بتایا کہ انہیں متعدد مرتبہ بی جے پی میں شمولیت کی باقاعدہ پیشکش کی گئی، تاہم انہوں نے ہر بار اسے مسترد کیا۔ اگر ان کا ارادہ بی جے پی میں جانے کا ہوتا تو وہ بہت پہلے یہ فیصلہ کر چکے ہوتے۔
کاکروچ جنتا پارٹی پر لگائے جانے والے ‘بیرونی فنڈنگ’ کے الزامات کا جواب دیتے ہوئے ابھیجیت دیپکے نے کہا کہ اگر واقعی ان کی جماعت غیر ملکی طاقتوں کے اشاروں پر کام کر رہی ہے تو یہ بھارت کے مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کی سیکیورٹی ناکامی ہے، لہٰذا انہیں فوری طور پر اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دینا چاہیے۔
انہوں نے جنتر منتر پر ہونے والے پتھراؤ اور طلبا پر پولیس کے لاٹھی چارج کا ذمہ دار بھی وزیر داخلہ امیت شاہ کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ تمام کارروائیاں ایک منصوبہ بندی کے تحت کی گئی تھیں۔ ملکی سیاست پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس وقت ملک میں ایک شخصیت کو آئین سے بھی بالاتر بنا دیا گیا ہے اور اس صورتحال کا مقابلہ صرف عوام کے اتحاد سے ہی ممکن ہے۔





