اسلام آباد (ویب ڈیسک): وزیراعظم شہباز شریف سے وزیراعظم ہاؤس میں امریکی ایوانِ نمائندگان (کانگریس) کے ایک اعلیٰ سطحی وفد نے ملاقات کی، جس میں وزیراعظم نے مئی 2025 میں پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ بندی کروانے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی “جرأت مندانہ اور فیصلہ کن” مداخلت پر ایک بار پھر ان کا شکریہ ادا کیا۔
امریکی وفد میں کانگریس کے ارکان رائن زنکے (Ryan Zinke) اور مائیکل بومگارٹنر (Michael Baumgartner) شامل تھے۔ اس اہم ملاقات میں نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، سیکرٹری خارجہ سفیر آمنہ بلوچ اور امریکی ناظم الامور محترمہ نٹالی بیکر بھی موجود تھیں۔
وزیراعظم نے امریکی ارکانِ کانگریس کو پاکستان آمد پر خوش آمدید کہتے ہوئے ان کے دورے کو پاک-امریکہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی سمت ایک مثبت پیشرفت قرار دیا۔ انہوں نے امریکی آزادی کی 250 ویں سالگرہ کے موقع پر امریکی عوام اور ارکانِ کانگریس کو مبارکباد پیش کی اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
ملاقات کے دوران وزیراعظم شہباز شریف نے مئی 2025 کے پاک-بھارت بحران کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ صدر ٹرمپ کے بروقت اور مؤثر اقدام نے دونوں ممالک کے درمیان فوجی کشیدگی کو ختم کر کے کروڑوں انسانوں کی زندگیاں بچائیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان امریکہ کے ساتھ تجارت، سرمایہ کاری، زراعت، آئی ٹی، کان کنی اور توانائی کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو مزید گہرا کرنے کا خواہاں ہے۔
امریکی ارکانِ کانگریس نے پُر گرم جوش مہمان نوازی پر وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا اور اس بات پر زور دیا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پاکستانی قیادت کے ساتھ بہترین تعلقات ہیں، جس کے مثبت اثرات دوطرفہ روابط پر مرتب ہو رہے ہیں۔ انہوں نے علاقائی امن کے قیام کے لیے پاکستان کے کردار کو بھی سراہا۔ دونوں فریقین نے دونوں ممالک کے درمیان پارلیمانی وفود کے تبادلوں میں اضافے پر اتفاق کیا۔
ملاقات کے بعد وزیراعظم نے پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے امریکی کارپوریٹ سیکٹر کے ایگزیکٹوز کے وفد کے اعزاز میں ایک پرشکوہ استقبالیہ دیا۔ اس وفد میں آئی ٹی، ٹیکنالوجی، توانائی، کان کنی اور مینوفیکچرنگ کے شعبوں کے نمائندے شامل تھے۔
وزیراعظم نے امریکی کمپنیوں کو پاکستان کے مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ معاشی تعاون پاک-امریکہ تعلقات کا مرکزی ستون ہے۔ انہوں نے امریکہ میں مقیم پاکستانی نژاد امریکی کمیونٹی کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ دونوں ممالک کے درمیان ایک مضبوط پل کا کردار ادا کر رہی ہیں۔





