لوڈ ہو رہا ہے...
00:00:00

ڈونلڈ ٹرمپ کاالیکشن نظام پرتحفظات کااظہار, ووٹنگ قوانین میں تبدیلی کی کوششیں تیز

لنک کاپی ہو گیا ہے!

John Doe

واشنگٹن: امریکی مڈ ٹرم انتخابات جیسے جیسے قریب آ رہے ہیں، صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر انتخابات کے شفاف ہونے پر سوالات اٹھانا شروع کر دیے ہیں۔ جمعہ کی رات امریکی پرائم ٹائم ٹیلی ویژن پر خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے 2020 کے صدارتی انتخابات کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ امریکی انتخابی نظام میں گڑبڑ ممکن ہے اور عوام کا اعتماد متاثر ہوا ہے

سیاسی تجزیہ کاروں اور ووٹنگ رائٹس کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ صدر کا یہ بیانیہ آنے والے نومبر 2026 کے مڈ ٹرم انتخابات کے نتائج اور طریقہ کار کو اثر انداز کرنے کی ایک کوشش ہے۔

مڈ ٹرم انتخابات اور مقبولیت کا دباؤ
تاریخی طور پر امریکہ میں اقتدار میں موجود پارٹی مڈ ٹرم انتخابات میں نچلی سطح پر کارکردگی دکھاتی ہے۔ صدر ٹرمپ کی مقبولیت کی موجودہ شرح 37 فیصد تک گرنے کے باعث ریپبلکن پارٹی کے لیے سینیٹ، ایوانِ نمائندگان اور ریاستی سطح پر نشستیں بچانا ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔

سیو ایکٹ (Save Act) اور وفاقی کنٹرول کی کوشش
صدر ٹرمپ کانگریس کے ذریعے “سیو ایکٹ” (Save Act) پاس کرانے کے لیے کوشاں ہیں۔
سخت شرائط: اس قانون کے تحت ووٹرز کے لیے رجسٹریشن کے وقت پاسپورٹ یا پیدائشی سرٹیفکیٹ پیش کرنا لازمی ہوگا
ووٹر لسٹ کا وفاقی کنٹرول: اس قانون کے ذریعے تمام ریاستوں کی ووٹر لسٹوں پر وفاقی حکومت کو معائنے کا اختیار دینے کی تجویز ہے

تاہم، قانونی ماہرین کے مطابق امریکہ میں انتخابی نظام کسی وفاقی ادارے کے پاس نہیں بلکہ تمام 50 ریاستوں اور مقامی دائرہ اختیار کے تحت چلایا جاتا ہے، جس کی وجہ سے صدر کے پاس براہِ راست انتخابات پر کنٹرول کا کوئی آئینی اختیار حاصل نہیں ہے۔

1.عدالتی فیصلے اور نئی حلقہ بندیاں:ریاستی اقدامات.سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ریپبلکن اکثریتی ریاستوں (مثلاً لوئیزیانا) نے اپنے کانگریسی حلقوں کی حدود دوبارہ متعین (Redrawing Maps) کی ہیں تاکہ اپنے انتخابی نتائج کو مضبوط کیا جا سکے۔

2.ڈاک کے ذریعے ووٹنگ (Mail-in Voting) پر پابندیاں:یو ایس پی ایس پر دباؤ.امریکی پوسٹل سروس (USPS) کے ذریعے ڈاک کے ذریعے ووٹ ڈالنے کے طریقہ کار پر سخت شرائط عائد کرنے کے انتظامی احکامات جاری کیے گئے، جنہیں مختلف امریکی عدالتوں میں چیلنج کیا گیا ہے۔

3.الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں پر سوالات:قومی سلامتی کا بیانیہ.صدر ٹرمپ نے ووٹنگ مشینوں میں غیر ملکی مداخلت کے خدشات ظاہر کرتے ہوئے انتخابی سائبر سیکیورٹی ایجنسیوں کے بجٹ اور عملے میں کمی کی ہے، جس پر شہریوں کے حقوق کی تنظیمیں تحفظات کا اظہار کر رہی ہیں۔


ایریزونا کے سیکرٹری آف اسٹیٹ ایڈرین فونٹس سمیت کئی انتخابی اہلکاروں نے خبردار کیا ہے کہ اس قسم کے بیانیے سے ملک میں سیاسی کشیدگی بڑھ رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انتخابی نظام پر بے بنیاد شکایات اٹھانے سے عوام کا جمہوری عمل پر سے اعتماد اٹھ سکتا ہے، جو سیکیورٹی کے حوالے سے صورتحال کو مزید پرتشدد بنا سکتا ہے۔