لوڈ ہو رہا ہے...
00:00:00

عدالت نے H-1B ویزافیس بحال کرنےکی اپیل مسترد کر دی

لنک کاپی ہو گیا ہے!

John Doe

بوسٹن / واشنگٹن: امریکی ریاست بوسٹن کی ‘فرسٹ یو ایس سرکٹ کورٹ آف اپیلز’ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی اس درخواست کو خارج کر دیا ہے جس میں ایچ ون بی (H-1B) ورک ویزوں پر عائد 100,000 (ایک لاکھ) ڈالر فیس کو دوبارہ بحال کرنے کی اپیل کی گئی تھی۔

تین رکنی ججز کے پینل نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ ٹرمپ انتظامیہ یہ ثابت کرنے میں ناکام رہی ہے کہ امریکی صدر کے پاس اس نوعیت کی بھاری فیس عائد کرنے کا کوئی قانونی یا آئینی اختیار موجود ہے۔ عدالت کے اس فیصلے کے ساتھ ہی نچلی عدالت کا وہ حکم نامہ برقرار رہے گا جس نے اس متنازعہ فیس پر فی الحال روک لگا رکھی تھی۔

اپیلز کورٹ کا یہ فیصلہ جون میں ڈسٹرکٹ جج لیو سوروکن کے فیصلے کی توثیق کرتا ہے۔ ڈسٹرکٹ جج نے اپنے فیصلے میں قرار دیا تھا کہ 100,000 ڈالر کی غیر معمولی رقم دراصل ایک “ٹیکس” کی مانند ہے اور امریکی آئین کی رو سے کسی بھی قسم کا ٹیکس عائد کرنے کا اختیار صرف امریکی کانگریس کے پاس ہے، نہ کہ امریکی صدر کے پاس۔

ٹرمپ انتظامیہ نے ستمبر 2025 میں اس بھاری فیس کا اعلان کرتے ہوئے موقف اپنایا تھا کہ H-1B ویزا کا غلط استعمال کر کے مقامی امریکی ورکرز کے بجائے سستے غیر ملکی ماہرین کو ملازمتیں دی جا رہی ہیں۔

اس فیصلے کے خلاف 20 ڈیموکریٹک اٹارنی جنرلز نے مشترکہ طور پر عدالت سے رجوع کیا تھا اور اس فیس کو غیر آئینی قرار دینے کی استدعا کی تھی۔

عام طور پر H-1B ویزا کے عمل کے لیے کمپنیاں 2,000 سے 5,000 ڈالر کے درمیان فیس ادا کرتی تھیں۔ تاہم، 100,000 ڈالر کی یکمشت فیس کے باعث درخواستوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی تھی۔

قانون دانوں اور امیگریشن ماہرین کے مطابق اپیلز کورٹ کے اس فیصلے سے ان ہزاروں غیر ملکی تکنیکی ماہرین اور ہنر مند ورکرز کو بڑی راحت ملے گی جن کے روزگار کے حقوق اور ویزا پراسیسنگ اس بھاری فیس کی وجہ سے شدید خطرات کا شکار ہو چکے تھے۔