نئی دہلی: بھارت میں میڈیکل داخلہ امتحانات کے پرچے لیک ہونے کے سنگین معاملے پر ڈیڑھ ماہ سے جاری ملک گیر طلبا احتجاج کو بڑی کامیابی مل گئی۔ طلبا، نوجوانوں اور اپوزیشن کے شدید دباؤ کے بعد بالآخر بھارتی وزیر تعلیم نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔
یہ استعفیٰ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب نئی دہلی کے تاریخی مقام جنتر منتر پر طلبا تنظیموں، کاکروچ جنتا پارٹی اور نوجوانوں نے زبردست دھرنا دے رکھا تھا۔

دوسری جانب لداخ سے تعلق رکھنے والے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز سے جاری اپنی بھوک ہڑتال ختم کرتے ہوئے اس استعفے کو “حقیقی جمہوریت کی فتح” قرار دیا۔ انہوں نے نوجوان نسل (Gen-Z) اور عوام کو خوف کے بت توڑ کر سڑکوں پر نکلنے پر مبارکباد دی۔

کاکروچ جنتا پارٹی کے ترجمان آشوتوش رنکا کے مطابق حکومت کو تمام مطالبات کی منظوری کے لیے شام 4 بجے تک کا الٹی میٹم دیا گیا تھا، جس کے نتیجے میں حکومت کو استعفیٰ دینے کا فیصلہ کرنا پڑا۔
استعفے کے بعد اپوزیشن اور مظاہرین نے بقیہ مطالبات کی فوری منظوری پر زور دیا ہے اور پرچہ لیک ہونے اور ذہنی دباؤ کے باعث خودکشی کرنے والے طلبا کے اہل خانہ کو 1 کروڑ بھارتی روپے معاوضہ دیا جائے علاوہ ازیں احتجاج کرنے والے پرامن طلبا کے خلاف کی گئی تمام حکومتی اور پولیس کارروائیاں فوری ختم کی جائیں۔
اپوزیشن رہنما راہول گاندھی کے مطالبات: مظاہرین پر تشدد کرنے والے پولیس اہلکاروں کے خلاف کارروائی اور وزیراعظم کی جانب سے معافی کا مطالبہ۔

میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچے افشا ہونے سے 20 لاکھ سے زائد امیدواروں کا مستقبل معلق ہو گیا تھا اور انہیں دوبارہ امتحان دینا پڑا۔ مظاہرین کے 6 بنیادی مطالبات درج ذیل ہیں:
منظم پرچہ لیک نیٹ ورکس کی سزا 3 سال سے بڑھا کر 10 سال کی جائے اور ملوث افراد کی جائیدادیں ضبط کی جائیں۔
پرچہ لیک کے ہر واقعے پر متعلقہ وزیر ایوان میں آ کر باقاعدہ وضاحت دیں۔
سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج کی سربراہی میں 30 دن کے اندر تحقیقاتی رپورٹ پارلیمنٹ میں پیش کی جائے۔
شفافیت اور امیدواروں کو ریلیف دینے کے لیے خود مختار اتھارٹی قائم کی جائے۔
امتحانی اداروں کا باقاعدہ آڈٹ ہو اور عوام کو جانچ پڑتال کا اختیار ملے۔
تمام ریاستوں کے امتحانی نظام میں یکسانیت اور شفافیت کے لیے نیا فریم ورک بنایا جائے۔





