واشنگٹن (ویب ڈیسک): حوثی ملیشیا کی جانب سے بحیرہ احمر میں سعودی عرب کے دو آئل ٹینکروں کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنانے کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں دو ماہ میں پہلی بار 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہیں۔
یمنی حوثی گروہ نے اعلان کیا ہے کہ انہوں نے سعودی عرب کے خلاف اپنی بحری ناکہ بندی کی خلاف ورزی کرنے پر ‘انسیلیا’ (Encelia) اور ‘لیلا’ (Layla) نامی ٹینکروں کو تباہ کیا۔ سعودی خبر رساں ایجنسی (SPA) کے مطابق حملے کے نتیجے میں ٹینکر کے اگلے حصے میں آگ لگ گئی، تاہم تمام عملہ محفوظ رہا۔ اس حملے کے بعد بحیرہ احمر میں حوثیوں کی اس ناکہ بندی نے عالمی تیل کی ترسیل کے لیے دوسرا بڑا بحران پیدا کر دیا ہے۔
یہ پیشرفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب تنگہ ہرمز (Strait of Hormuz) کو ایران کی جانب سے تقریباً بند کیے جانے کے باعث پہلے ہی عالمی سطح پر تیل اور ایل این جی کی 20 فیصد ترسیل متاثر ہے۔
دوسری جانب امریکہ اور ایران کے درمیان فوجی تصادم خطرناک حد تک بڑھ گیا ہے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر مسلسل 12ویں رات بھی شدید بمباری کے احکامات دیے ہیں اور خبردار کیا ہے کہ تنگہ ہرمز میں اگر کسی بھی جہاز پر فائرنگ کی گئی تو جواب میں ایران کے بجلی گھروں اور پلوں کو تباہ کر دیا جائے گا۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب اور فوج نے امریکی حملوں کے جواب میں کویت اور اردن میں قائم متعدد امریکی فوجی اڈوں اور ‘تھاڈ’ (THAAD) مائل ڈیفنس سسٹم سمیت دیگر اہم عسکری تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔
برطانیہ نے ایران میں موجود اپنے تمام سفارتی عملے کو عارضی طور پر واپس بلا لیا ہے۔
اس شدید بحران کے پیشِ نظر امریکہ نے سعودی عرب کے ساتھ ایک تاریخی سویلین نیوکلیئر معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں جس کے تحت سعودی عرب کو جوہری توانائی کے حصول میں مدد فراہم کی جائے گی تاکہ خطے میں جاری کشیدگی اور توانائی کے بحران کا مقابلہ کیا جا سکے۔





