نیویارک: اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسکو (UNESCO) کی عالمی ورثہ کمیٹی نے اسرائیلی شدید اعتراضات اور مخالفت کو مسترد کرتے ہوئے مقبوضہ مغربی کنارے کے تاریخی مقام سبسطیہ اور جنوبی لبنان کے جبل عامل خطے کے پانچ تاریخی قلعوں کو باضابطہ طور پر عالمی ثقافتی ورثہ (World Heritage Site) قرار دے دیا ہے۔
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق یونیسکو نے اہم تاریخی اہمیت کے پیش نظر ان تمام سائٹس کو فوری طور پر ‘خطرے سے دوچار عالمی ورثے’ کی فہرست میں بھی شامل کر لیا ہے تاکہ ان کا تحفظ ممکن بنایا جا سکے۔ اس کے علاوہ یونیسکو نے لبنان کے قدیم تاریخی شہر ‘صور’ کو بھی خطے میں جاری تنازعات اور ممکنہ نقصان کے شدید خدشات کے باعث خطرے سے دوچار ورثے کی فہرست میں ڈالا ہے۔

اسرائیل نے یونیسکو کے اس فیصلے پر شدید تنقید کرتے ہوئے اسے ‘سیاسی نوعیت کا فیصلہ’ قرار دیا، اور خاص طور پر جنوبی لبنان کے تاریخی بیوفورٹ قلعے (Beaufort Castle) کی شمولیت پر سیکورٹی خدشات کا عذر پیش کیا۔

دوسری جانب، فلسطینی اور لبنانی حکام نے اقوام متحدہ کے اس تاریخی فیصلے کا پرجوش خیرمقدم کیا ہے۔ دونوں ممالک کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ یونیسکو کا یہ اقدام خطے کی تاریخی اور ثقافتی شناخت کو صیہونی تجاوزات اور تباہی سے بچانے کے لیے ایک انتہائی اہم اور مثبت پیش رفت ہے۔





