لوڈ ہو رہا ہے...
00:00:00
ہیڈ لائنز

امریکی صدرکاکینیڈین مصنوعات پر50 فیصد ٹیرف عائدکرنےکااعلان

لنک کاپی ہو گیا ہے!

John Doe

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کینیڈا سے وارد ہونے والی اشیاء کی ایک وسیع رینج پر 50 فیصد ٹیرف (کسٹم ڈیوٹی) عائد کر دیا ہے۔ صدر ٹرمپ کے مطابق یہ قدم امریکی گاڑیوں، ڈائری پروڈکٹس اور الکحل کے ساتھ کینیڈا کی جانب سے روا رکھے گئے “غیر مساوی سلوک” کے ردعمل میں اٹھایا گیا ہے۔

وائٹ ہاؤس کے مطابق یہ نئی ڈیوٹیز 30 دنوں کے اندر لاگو ہو جائیں گی، جس سے شمالی امریکہ کے ان دو پڑوسی ممالک کے درمیان تجارتی کشیدگی میں اب تک کا سب سے بڑا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

عام استعمال کی اشیاء جیسے وائن، ہاکی اسٹکس اور صنعتی مصنوعات (مثلاً سیمنٹ) اس 50% ٹیرف کی زد میں آئیں گی۔

تاہم کئی اہم برآمدات کو اس ٹیرف سے چھوٹ دی گئی ہے، جن میں توانائ (Energy)، پوٹاش، اہم معدنیات (Critical Minerals) اور مچھلی شامل ہیں۔

وائٹ ہاؤس کی دستاویز کے مطابق یہ نفاذ USMCA (امریکہ، کینیڈا، میکسیکو فری ٹریڈ معاہدے) کی موجودگی کے باوجود لاگو ہوگا۔

کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘X’ پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ”یہ یکطرفہ امریکی تجارتی کارروائیوں کا نیا سلسلہ ہے جو USMCA معاہدے کی براہ راست خلاف ورزی ہے۔ تاہم، کینیڈا آنے والے ہفتوں میں امریکہ کے ساتھ تجارتی مذاکرات میں مزید ‘شدت’ لانے کے لیے تیار ہے۔”

کارنی نے کینیڈا کی خودمختاری کے تحفظ پر زور دیا، جبکہ آنٹاریو کے پریمیئر ڈوگ فورڈ نے سخت موقف اپناتے ہوئے کہا کہ “اگر یہ ٹیرف نافذ ہوتے ہیں تو کینیڈا کو ‘ٹیرف کے بدلے ٹیرف اور ڈالر کے بدلے ڈالر’ کا جواب دینا چاہیے۔”

صدر ٹرمپ نے اپنے صدارتی حکم نامے میں تین اہم تجارتی شکایتیں پیش کی ہیں:

گاڑیاں (Automotive): گاڑیوں کے پرزوں اور نان-USMCA گاڑیوں پر کینیڈا کا ٹیکس عائد کرنا۔

ڈائری مصنوعات (Dairy): کینیڈا کا سپلائی مینجمنٹ سسٹم جو غیر ملکی ڈائری پروڈکٹس پر حد سے تجاوز کی صورت میں 300% تک ٹیرف لگاتا ہے۔

الکحل (Alcohol): کینیڈین صوبوں کی جانب سے امریکی مشروبات کا جاری بائیکاٹ، جسے کینیڈا امریکی ٹیرف ختم ہونے سے مشروط کر چکا ہے۔

امریکی سپریم کورٹ کی جانب سے ہنگامی اختیارات کے تحت ٹرمپ کے سابقہ ٹیرف کو غیر قانونی قرار دیے جانے کے بعد، صدر ٹرمپ نے اس بار ایک مختلف اور غیر روایتی قانون کا سہارا لیا ہے۔