لوڈ ہو رہا ہے...
00:00:00
ہیڈ لائنز

عالمی تیل منڈی میں نیابحران: امریکااورچین کے اسٹریٹجک ذخائرتاریخ کی کم ترین سطح پر

لنک کاپی ہو گیا ہے!

John Doe

واشنگٹن: امریکا اور چین سمیت دنیا کے بڑے تیل استعمال کرنے والے ممالک کے اسٹریٹجک ذخائر تیزی سے ختم ہو رہے ہیں، جبکہ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی اور آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) کی دوبارہ بندش نے عالمی توانائی کی منڈی میں ایک خطرناک اور نئے بحران کا خدشہ پیدا کر دیا ہے۔

امریکی محکمہ توانائی (EIA) کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق، امریکا کے اسٹریٹجک پیٹرولیم ریزرو (SPR) میں خام تیل کی مقدار کم ہو کر صرف 316.5 ملین بیرل رہ گئی ہے، جو 1983 کے بعد کی کم ترین سطح ہے۔

رواں سال کی دوسری سہ ماہی کے دوران امریکا نے عالمی سپلائی کو سہارا دینے اور قیمتوں کو کنٹرول میں رکھنے کے لیے اپنے ہنگامی ذخائر سے تقریباً 172 ملین بیرل خام تیل جاری کیا تھا۔

دوسری جانب چین، جس نے جنگ سے قبل تقریباً 1.3 ارب بیرل خام تیل کا ذخیرہ کر رکھا تھا، اب سپلائی لائنز متاثر ہونے کے باعث انہی ذخائر پر انحصار کرنے پر مجبور ہے۔ بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث چین نے خام تیل کی اپنی درآمدات 2018 کے بعد کم ترین سطح تک محدود کر دی ہیں۔

مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کی وجہ سے خلیج فارس سے خام تیل لے جانے والے ٹینکرز کی آمدورفت کئی ماہ کی کم ترین سطح پر آگئی ہے۔

سپلائی متاثر ہونے کی خبروں سے عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمت 90 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔

توانائی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز کا تعطل کچھ ماہ مزید برقرار رہا تو خام تیل 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر جا سکتا ہے۔

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کا کہنا ہے کہ دنیا نے اب تک اپنے اسٹریٹجک ذخائر کا استعمال کر کے یومیہ 40 لاکھ بیرل کی کمی کو پورا کیا ہے، لیکن اب یہ صلاحیت ختم ہو چکی ہے۔ اگر خلیجی خطے کی صورتحال بہتر نہ ہوئی تو آنے والے دنوں میں توانائی کے اخراجات عالمی معیشت کو شدید نقصان پہنچائیں گے۔