زیورخ: عالمی فٹبال کی گورننگ باڈی (فیفا) نے اسپین کے خلاف ورلڈ کپ فائنل کے اختتام پر پیش آنے والے ناخوشگوار اور ہنگامہ خیز واقعات پر ارجنٹینا کی قومی فٹبال ٹیم کے خلاف باضابطہ انضباطی (ڈسپلنری) تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
فیفا نے معاملے کی سنگینی کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک ڈسپلنری اور اخلاقیاتی پراسیکیوٹر مقرر کیا ہے، جو فائنل کی آخری سیٹی بجنے کے بعد میدان میں پیش آنے والے تمام واقعات کا باریک بینی سے جائزہ لے گا۔
ورلڈ کپ کے سنسنی خیز فائنل میں اسپین نے ارجنٹینا کو 0-1 سے شکست دے کر عالمی چیمپئن بننے کا اعزاز حاصل کیا۔ تاہم، میچ ختم ہوتے ہی دونوں ٹیموں کے کھلاڑیوں اور آفیشلز کے درمیان شدید تلخ کلامی ہوئی جو بعد میں دھکم پیل اور بدنظمی میں تبدیل ہو گئی۔
رپورٹس کے مطابق ارجنٹینا کے کھلاڑی نہوئل مولینا، لیاندرو پاریدیس، تھیاغو المادا اور معاون کوچ روبرٹو ایالا اس تنازع کے مرکزی کرداروں میں شامل تھے۔
فیفا کے مطابق ابتدائی طور پر لیاندرو پاریدیس کو ریڈ کارڈ دکھائے جانے کی اطلاع سامنے آئی تھی، تاہم بعد میں اسے باضابطہ ریکارڈ سے ہٹا دیا گیا اور فی الوقت ان کے خلاف کوئی فوری تادیبی کارروائی نہیں کی گئی۔ واضح رہے کہ میچ کے دوران ارجنٹینا کے اینزو فرنانڈیز کو دو پیلے کارڈز ملنے پر پہلے ہی میدان سے باہر بھیج دیا گیا تھا۔
تحقیقات کے نتیجے میں اگر ارجنٹینا کے کھلاڑی یا آفیشلز قصوروار ثابت ہوتے ہیں تو:
ملوث کھلاڑیوں اور کوچنگ اسٹاف پر عالمی سطح پر پابندی عائد کی جا سکتی ہے۔
ارجنٹائن فٹبال ایسوسی ایشن (AFA) پر بھاری مالی جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔
فیفا کے قوانین کے مطابق اگر یہ ثابت ہو جائے کہ کسی ٹیم کے رویے نے کھیل کی ساکھ کو نقصان پہنچایا یا شائستگی کے بنیادی اصولوں کی خلاف ورزی کی، تو اس پر سخت ترین تادیبی کارروائی کی جاتی ہے۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہ ارجنٹینا کو پہلے ہی سیمی فائنل میں انگلینڈ کو شکست دینے کے بعد فاک لینڈ جزائر سے متعلق سیاسی بینر اٹھانے پر بھی فیفا کی جانب سے تحقیقات کا سامنا ہے۔ ماضی میں بھی ارجنٹائن کی ٹیم کو نامناسب رویے اور متنازع جشن کے باعث جرمانوں اور پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ چکا ہے۔





