NASA Cancels Evacuation Precaution After Reviewing ISS Leak Data

ناسا کے حکام نے روس کے اس طریقے سے شدید اختلاف کیا، جس کے بعد ہیوسٹن میں موجود مشن کنٹرول نے خلا بازوں کو فوری طور پر محفوظ پناہ گاہ (Safe-Haven) میں جانے کی ہدایات جاری کیں۔

Editor News

واشنگٹن (رائٹرز): بین الاقوامی خلائی اسٹیشن (ISS) پر ہوا کے اخراج (Air Leak) کی رفتار اچانک دگنی ہونے کے باعث ناسا نے ہنگامی الرٹ جاری کرتے ہوئے پانچ خلا بازوں کو فوری طور پر زمین پر واپسی کے لیے محفوظ مقام پر منتقل ہونے کا حکم دیا۔ جمعہ کے روز پیش آنے والے اس واقعے کے دوران خلا بازوں نے ممکنہ انخلا (Evacuation) کی تیاری کے تحت تقریباً دو گھنٹے اسپیس ایکس (SpaceX) کے کلاک شدہ ‘کرو ڈریگن’ خلائی جہاز میں پناہ لیے رکھی۔

ناسا کے مشن کنٹرول نے جمعہ کی صبح 9:04 بجے (امریکی وقت) ناسا کے ‘کرو-12’ مشن کے چار خلا بازوں (دو امریکی، ایک فرانسیسی اور ایک روسی) سمیت ایک اور امریکی خلا باز کو فوری طور پر خلائی جہاز میں داخل ہونے کا حکم دیا۔ تقریباً دو گھنٹے بعد، جب ہوا کے اخراج کی شرح کا دوبارہ جائزہ لیا گیا، تو ناسا نے یہ حکم واپس لے لیا اور عملے کو خلائی اسٹیشن پر لوٹنے کی اجازت دے دی۔

روس کی مرمت کی کوشش اور ناسا کا اختلاف
خلائی اسٹیشن کے دو اہم آپریٹرز، ناسا اور روسی خلائی ایجنسی ‘روس کوسموس’، گزشتہ کئی ماہ سے خلائی اسٹیشن کے روسی حصے ‘زویزدا’ (Zvezda) سروس ماڈیول میں چھوٹے کریکس اور ہوا کے معمولی اخراج کی وجوہات پر بحث کر رہے ہیں۔ تاہم، جمعہ کے روز یہ اخراج روزانہ ایک پاؤنڈ سے بڑھ کر اچانک دو پاؤنڈ تک پہنچ گیا۔

روسی خلا باز سرگئی کُد سویرچکوف اور سرگئی میکایف نے اس دراڑ تک پہنچنے کے لیے ایک آری (Saw) کا استعمال کرنے کا منصوبہ بنایا تھا تاکہ وہ اس حصے کو کاٹ کر مرمت کر سکیں۔ ناسا کے حکام نے روس کے اس طریقے سے شدید اختلاف کیا، جس کے بعد ہیوسٹن میں موجود مشن کنٹرول نے خلا بازوں کو فوری طور پر محفوظ پناہ گاہ (Safe-Haven) میں جانے کی ہدایات جاری کیں۔ بعد ازاں، جب روس نے مرمت کا کام عارضی طور پر روکا، تو ناسا نے بھی ہنگامی الرٹ ختم کر دیا۔

روس کوسموس کا مؤقف
روسی خلائی ایجنسی نے جمعہ کو کہا کہ ان کے ماہرین نے خلائی اسٹیشن پر دو کریکس کا پتہ لگایا ہے، لیکن عملے کو کوئی فوری خطرہ لاحق نہیں تھا۔ روس کے مطابق پہلا کریک فوری طور پر سیل کر دیا گیا تھا جبکہ دوسرے کو بند کرنے کی تیاریاں جاری ہیں۔

خلائی اسٹیشن کی تاریخ اور مستقبل کا بل
بین الاقوامی خلائی اسٹیشن کی 27 سالہ تاریخ میں خلا بازوں کو کبھی بھی اسٹیشن سے ہنگامی طور پر نکلنا نہیں پڑا ہے۔ یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی کانگریس میں خلائی اسٹیشن کی مدتِ حیات میں دو سال کا اضافہ کر کے اسے 2032 تک برقرار رکھنے کا بل زیرِ غور ہے، تاکہ نجی کمپنیوں کو اس کا متبادل تیار کرنے کے لیے مزید وقت مل سکے اور خلا میں چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کا مقابلہ کیا جا سکے۔

Share This Article
Leave a Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *