واشنگٹن(ویب ڈیسک): امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) نے اپنی فوجی صلاحیتوں کو جدید بنانے کے لیے ایمیزون ویب سروسز (AWS) اور ریفلیکشن اے آئی کے ساتھ نئے معاہدوں کا اعلان کیا ہے۔
ان معاہدوں کے تحت جدید ترین مصنوعی ذہانت (AI) ٹیکنالوجی اور ماڈلز کو خفیہ فوجی نیٹ ورکس پر قانونی آپریشنل استعمال کے لیے تعینات کیا جائے گا۔ یہ پیش رفت گوگل، اسپیس ایکس اور اوپن اے آئی کے ساتھ کیے گئے سابقہ معاہدوں کا تسلسل ہے۔
پینٹاگون کے مطابق، ان معاہدوں کا مقصد امریکی فوج کو ایک “AI-First” لڑاکا قوت بنانا ہے۔ اس ٹیکنالوجی کی مدد سے میدانِ جنگ میں فیصلہ سازی کی صلاحیت (Decision Superiority) کو بہتر بنایا جائے گا اور تمام جنگی شعبوں میں دشمن پر برتری حاصل کی جا سکے گی۔
محکمہ دفاع نے واضح کیا ہے کہ یہ اے آئی سسٹم ‘امپیکٹ لیول 6’ اور ‘لیول 7’ جیسے انتہائی حساس اور اعلیٰ حفاظتی ماحول میں استعمال کیے جائیں گے۔ یہ سسٹمز قومی سلامتی کے لیے انتہائی اہم ڈیٹا کی ترسیل، حالات کے بہتر ادراک (Situational Awareness) اور فوجی فیصلوں میں معاونت کے لیے ڈیزائن کیے گئے ہیں۔
اس وقت پینٹاگون کے 13 لاکھ سے زائد اہلکار پہلے ہی ‘GenAI.mil’ نامی پلیٹ فارم استعمال کر رہے ہیں، جو فی الحال غیر خفیہ تحقیقی کاموں اور دستاویزات کی تیاری کے لیے استعمال ہو رہا ہے۔
