Huawei Introduces LogicFolding Architecture to Boost Kirin Chip Performance

کمپنی کا کہنا ہے کہ چونکہ اب چپس انڈسٹری صرف ٹرانزسٹرز کا سائز چھوٹا کرنے پر انحصار نہیں کر سکتی، اس لیے "ٹاؤ اسکیلنگ لا" چپس اور کمپیوٹنگ سسٹمز کے اندر سگنلز اور ڈیٹا کی نقل و حرکت کے وقت کو کم کرنے پر توجہ مرکوز کرتا ہے۔

Editor News

شنگھائی (ویب ڈیسک): چین کی معروف ٹیکنالوجی کمپنی ہواوے (Huawei) نے اعلان کیا ہے کہ امریکی پابندیوں کے باوجود وہ 2031 تک ایسے ہائی اینڈ (اعلیٰ ترین) سیمی کنڈکٹر چپس ڈیزائن کرنے کی صلاحیت حاصل کر لے گی جن کی ٹرانزسٹر کثافت 1.4 نینو میٹر (1.4nm) پروسیس کے برابر ہوگی۔

ہواوے نے یہ دعویٰ پیر کے روز شنگھائی میں منعقدہ “2026 IEEE انٹرنیشنل سمپوزیم آن سرکٹس اینڈ سسٹمز” (ISCAS) کے دوران پیش کیے گئے ایک نئے اصول کے تحت کیا ہے، جسے کمپنی نے “ٹاؤ اسکیلنگ لا” (Tau Scaling Law) کا نام دیا ہے۔ ہواوے کی سیمی کنڈکٹر برانچ کی صدر ‘ہی ٹنگبو’ نے اپنے کلیدی خطاب میں اس نئے تصور کو متعارف کرایا۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ چونکہ اب چپس انڈسٹری صرف ٹرانزسٹرز کا سائز چھوٹا کرنے پر انحصار نہیں کر سکتی، اس لیے “ٹاؤ اسکیلنگ لا” چپس اور کمپیوٹنگ سسٹمز کے اندر سگنلز اور ڈیٹا کی نقل و حرکت کے وقت کو کم کرنے پر توجہ مرکوز کرتا ہے۔ اس تکنیک کی مدد سے ہواوے جدید ترین مینوفیکچرنگ مشینوں (جیسے لیتھوگرافی ٹولز) پر امریکی پابندیوں کے باوجود چپس کی کارکردگی اور کثافت کو بہترین بنا سکے گی۔

کمپنی کے مطابق، 2026 کے آخر (خریف) میں لانچ ہونے والی ان کی نئی ‘کیرن’ (Kirin) چپس میں ‘لاجک فولڈنگ’ (LogicFolding) نامی آرکیٹیکچر استعمال کیا جائے گا، جو چپ کے اندر موجود وائرنگ کو مختصر کر کے کارکردگی کو نمایاں طور پر بڑھا دے گا۔ ہواوے کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ وہ گزشتہ چھ سالوں میں اس اصول کے تحت اسمارٹ فونز اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) کمپیوٹنگ کے لیے 381 چپس ڈیزائن اور تیار کر چکی ہے۔

واضح رہے کہ عالمی سطح پر 2030 کے اوائل تک 1.4 نینو میٹر کو چپ سازی کی آخری حد تصور کیا جا رہا ہے، اور ہواوے کا یہ ہدف چین کو عالمی سطح پر صفِ اول میں کھڑا کر سکتا ہے۔

Share This Article
Leave a Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *