واشنگٹن (ویب ڈیسک): امریکی خلائی ادارے ‘ناسا’ (NASA) نے اپنے تاریخی خلائی مشن ‘آرٹیمس’ (Artemis) کے تحت چاند پر روبوٹک لینڈرز، روورز اور ڈرونز بھیجنے کے لیے جیف بیزوس کی خلائی کمپنی ‘بلیو اوریجن’ اور ‘ایسٹرولیب’ سمیت کئی نجی کمپنیوں کو کروڑوں ڈالرز کے نئے کنٹریکٹس دینے کا اعلان کیا ہے۔
ناسا کے مطابق، کمپنی ‘ایسٹرولیب’ کو 219 ملین ڈالرز اور ‘لیونر آؤٹ پوسٹ’ کو 220 ملین ڈالرز کا کنٹریکٹ دیا گیا ہے، جو چاند کی سطح پر چلنے والی گاڑیاں (Lunar Terrain Vehicles) تیار اور ڈیلیور کریں گی۔
اس کے ساتھ ہی، جیف بیزوس کی کمپنی ‘بلیو اوریجن’ کو 188 ملین ڈالرز کا کنٹریکٹ دیا گیا ہے، جو اپنے بغیر پائلٹ والے کارگو لینڈرز ‘مارک 1’ (Mark 1) کے ذریعے ان روورز کو چاند کی سطح پر اتارے گی۔
یہ تمام کنٹریکٹس ناسا کے وسیع تر ‘آرٹیمس پروگرام’ کا حصہ ہیں، جس کا مقصد خلائی دنیا میں انسانی قدموں کے نشانات کو وسعت دینا اور مستقبل کے گہرے خلائی مشنز (Deep-Space Exploration) کی تیاری کرنا ہے۔ ناسا نے ‘فائر فلائی ایرو اسپیس’ نامی کمپنی کا بھی انتخاب کیا ہے جو ایک ایسا خلائی جہاز تیار کرے گی جو 2028 میں شیڈول ‘مون فال’ (MoonFall) مشن کے لیے زمین کے مدار سے ڈرونز کو چاند تک لے جائے گا۔
واضح رہے کہ سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دورِ حکومت میں تیار کردہ ناسا کے اس ترمیمی پلان کا مقصد چاند کی سطح پر ایک مستقل بیس (Moon Base) قائم کرنا اور وہاں جدید ترین انفراسٹرکچر اور گاڑیاں فراہم کرنا ہے۔
حال ہی میں، گزشتہ ماہ (اپریل) ناسا نے اپنا دوسرا آرٹیمس مشن کامیابی سے لانچ کیا تھا، جس نے چار خلا بازوں کو چاند کے گرد چکر لگا کر واپس زمین پر پہنچایا تھا، جو کہ 1972 کے بعد چاند پر پہلے انسانی لینڈنگ مشن کی ایک اہم کڑی ہے





