واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کسی بھی معاہدے تک پہنچنے کے لیے بے تاب ہے، تاہم انہوں نے متنبہ کیا کہ اگر سفارتی محاذ پر کوئی ٹھوس پیش رفت نہ ہوئی تو آنے والے دنوں میں ایران کے خلاف نئے امریکی حملے اب بھی ممکن ہیں۔
بال روم کنسٹرکشن سائٹ کے دورے کے دوران صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ آیا امریکہ کو ایران پر دوبارہ حملہ کرنا پڑے گا یا نہیں، لیکن انہوں نے مزید کہا کہ تہران کے پاس اب بھی جوابی کارروائی کی محدود صلاحیتیں موجود ہیں۔ امریکی صدر کے مطابق ایران کو کسی بھی صورت میں جوہری ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
امریکی صدر نے انکشاف کیا کہ امریکہ ایران پر نئے حملے شروع کرنے کے بالکل قریب پہنچ چکا تھا، اور طے شدہ آپریشن سے تقریباً ایک گھنٹہ قبل میزائلوں اور دیگر ہتھیاروں سے لیس بحری جہاز مکمل طور پر تیار تھے۔ ٹرمپ نے کہا کہ صورتحال انتہائی حساس مرحلے میں داخل ہو چکی ہے، اور ایران گزشتہ 47 سالوں سے آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) کو فوجی دباؤ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔
