سان فرانسسکو/نیویارک: ماحولیاتی تحفظ کے شعبے میں دنیا کا سب سے معتبر اعزاز “گولڈمین انوائرمنٹل پرائز” (Goldman Environmental Prize) سال 2026 کے لیے چھ خواتین کے نام کر دیا گیا ہے۔ 1989 میں اس انعام کے آغاز کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ دنیا کے تمام چھ خطوں سے منتخب ہونے والے تمام فاتحین خواتین ہیں۔
کولمبیا (یوویلس مورالیس بلانکو): جنوبی امریکہ سے تعلق رکھنے والی یوویلس نے بڑی تیل کمپنیوں کے خلاف جدوجہد کر کے کولمبیا میں “فریکنگ” (Fracking) کے منصوبوں کو رکوانے میں کامیابی حاصل کی۔
جنوبی کوریا (بوریم کم): ایشیا کی فاتح بوریم نے حکومت کے خلاف موسمیاتی مقدمہ جیت کر ثابت کیا کہ ناقص کلائمیٹ پالیسی مستقبل کی نسلوں کے آئینی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔
برطانیہ (سارہ فنچ): انہوں نے سپریم کورٹ سے تاریخی “فنچ رولنگ” حاصل کی، جس کے تحت حکام کو تیل نکالنے کی اجازت دینے سے پہلے عالمی آب و ہوا پر اس کے اثرات پر غور کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔
پاپوا نیو گنی (تھیونیلا روکا میٹ بوب): انہوں نے دنیا کی دوسری بڑی مائننگ کمپنی ‘ریو ٹنٹو’ کو تانبے کی کان سے ہونے والی تباہی کا ازالہ کرنے پر مجبور کیا۔
امریکہ (ایلانا اکاق ہرلے): انہوں نے الاسکا میں سونے اور تانبے کی کان کنی کے بڑے منصوبے کو رکوا کر دنیا کے سب سے بڑے وائلڈ سالمن (مچھلی) کے مسکن کو بچایا۔
نائیجیریا (ارورو تانشی): افریقہ سے تعلق رکھنے والی ارورو نے نایاب چمگادڑ (Short-tailed Roundleaf Bat) کی نسل کو معدوم ہونے سے بچانے کے لیے جنگلات کی آگ کے خلاف مہم چلائی۔
گولڈمین فاؤنڈیشن کے نائب صدر جان گولڈمین کا کہنا ہے کہ یہ فاتحین اس بات کا ثبوت ہیں کہ ہمت اور محنت سے بامعنی تبدیلی لائی جا سکتی ہے۔ ہر فاتح کو 2 لاکھ ڈالر کی انعامی رقم دی گئی ہے۔
