اقوام متحدہ: پاکستان کے نامزد مستقل مندوب برائے اقوام متحدہ، عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ‘اسلام آباد میمورنڈم’ کو مضبوط اور پرعزم سفارت کاری کی بڑی کامیابی قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کا ایک ٹھوس فریم ورک فراہم کرتا ہے۔
عاصم افتخار نے کہا کہ یہ میمورنڈم پاکستان کے اس دیرینہ موقف کی عکاسی کرتا ہے کہ علاقائی تنازعات کا حل صرف بات چیت اور سفارت کاری میں مضمر ہے۔
17 جون 2026 کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے درمیان ہونے والے اس معاہدے میں وزیراعظم شہباز شریف نے 18 جون کو بطور ثالث دستخط کیے۔ اس کا بنیادی مقصد مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازع کو ختم کرنا ہے۔
پاکستان کی قیادت فریقین اور علاقائی شراکت داروں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے تاکہ سفارتی پیش رفت کو برقرار رکھا جا سکے۔ تمام فریقین کا مذاکرات کی میز پر موجود رہنا ایک انتہائی مثبت پیش رفت ہے۔
مندوب نے خلیجی ممالک پر ہونے والے حملوں کی شدید مذمت کی اور بحرین و کویت کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا کہ مزید کشیدگی عالمی اور علاقائی امن کے لیے تباہ کن ہو سکتی ہے۔
پاکستان نے قطر، سعودی عرب، ترکی، مصر اور چین کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے پاکستان کی ثالثی کوششوں کی حمایت کی۔





