Pope Leo XIV Urges Governments to Slow AI Adoption for Ethical Review

اپنے مینی فیسٹو میں پوپ نے لکھا کہ ٹیکنالوجی بذاتِ خود انسانیت کی دشمن نہیں ہے، لیکن معاشرے کو یہ یقینی بنانا ہوگا کہ یہ نئے ٹولز صرف "انسانوں کی بھلائی" کے لیے استعمال ہوں۔

Editor News

ویٹیکن سٹی (ویب ڈیسک): مسیحیوں کے روحانی پیشوا پوپ لیو چودہویں (Pope Leo XIV) نے پیر کے روز اپنے پہلے باقاعدہ گرجا نامے (Encyclical) میں آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) کے بڑھتے ہوئے خطرات کے خلاف سخت وارننگ جاری کی ہے۔

“میگنیفیکا ہیومنیٹاس” (Magnifica Humanitas) کے عنوان سے جاری اس مینی فیسٹو میں انہوں نے عالمی رہنماؤں پر زور دیا ہے کہ وہ ٹیکنالوجی کے منفی اثرات کو روکنے اور انسانی وقار کے تحفظ کے لیے فوری طور پر قانونی ضوابط تیار کریں۔

گزشتہ سال مئی میں پوپ فرانسس کی وفات کے بعد منصب سنبھالنے والے، تاریخ کے پہلے امریکی نژاد پوپ لیو چودہویں اپنے آغازِ سفر ہی سے بچوں اور مزدوروں پر AI کے اثرات کے حوالے سے آواز اٹھاتے رہے ہیں۔ انہوں نے 1891 میں دوسری صنعتی انقلاب کے دوران مزدوروں کے حقوق کے لیے لکھے گئے پوپ لیو تیرہویں کے تاریخی منشور کی 135 ویں سالگرہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ ٹیکنالوجی انسانی وقار اور روزگار کے لیے نئے چیلنجز لا رہی ہے۔

اپنے مینی فیسٹو میں پوپ نے لکھا کہ ٹیکنالوجی بذاتِ خود انسانیت کی دشمن نہیں ہے، لیکن معاشرے کو یہ یقینی بنانا ہوگا کہ یہ نئے ٹولز صرف “انسانوں کی بھلائی” کے لیے استعمال ہوں۔

انہوں نے اخلاقی فریم ورک پر کھلی بحث کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا: “AI کو اپنانے کی رفتار کو سست کرنا یا اس کا سخت جائزہ لینا ترقی کی مخالفت نہیں، بلکہ انسانی خاندان کی ذمہ دارانہ دیکھ بھال ہے۔”

دلچسپ بات یہ ہے کہ ویٹیکن میں اس منشور کی لانچنگ تقریب میں مشہور امریکی AI کمپنی ‘اینتھروپک’ (Anthropic) کے شریک بانی کرسٹوفر اولاہ (Christopher Olah) بھی موجود تھے۔ انہوں نے پوپ کے اس اقدام کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کے مذہبی طبقات اور حکومتوں کو اس معاملے کو اتنی ہی سنجیدگی سے لینا چاہیے جیسا کہ ہولی نیس (پوپ) نے لیا ہے۔

واضح رہے کہ اینتھروپک کمپنی اس وقت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے ساتھ قانونی جنگ میں مصروف ہے، کیونکہ امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے اس کمپنی کو سپلائی چین کے لیے خطرہ قرار دیا ہے، جس کے بعد امریکی محکموں میں اس کے ‘کلاڈ’ (Claude) چیٹ بوٹ کے استعمال پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ یہ تنازع اس وقت شروع ہوا تھا جب کمپنی کے سی ای او ڈاریو اموڈائی نے مطالبہ کیا تھا کہ امریکی حکومت ان کی ٹیکنالوجی کو خودکار مہلک ہتھیاروں یا شہریوں کی بڑے پیمانے پر جاسوسی کے لیے استعمال نہ کرے۔

Share This Article
Leave a Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *