میامی: فیفا فٹبال ورلڈ کپ 2026 میں ارجنٹینا کے خلاف راؤنڈ آف 32 میں 2-3 سے سنسنی خیز اور دل شکن شکست کے باوجود، پہلی مرتبہ ورلڈ کپ کھیلنے والی افریقی جزیرے کیپ ورڈی (Cabo Verde) کی ٹیم نے فٹبال کی تاریخ پر اپنے انمٹ نقوش چھوڑ دیے ہیں۔
میامی اسٹیڈیم سے باہر نکلتے ہوئے کیپ ورڈی کے مداحوں کے چہروں پر مایوسی کے بجائے فخر اور مسکراہٹیں بکھری ہوئی تھیں۔
40 سال قبل امریکا منتقل ہونے والے 65 سالہ پریٹو فرنینڈس نے فخر سے اپنی ٹیم کی شرٹ پہن کر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا:”جب میں چالیس سال پہلے امریکا آیا تھا، تو کوئی میرے ملک کا نام تک نہیں جانتا تھا اور نہ ہی اسے نقشے پر ڈھونڈ سکتا تھا۔ لیکن آج پوری دُنیا ‘کابو ورڈی’ (کیپ ورڈی کا پرتگالی نام) کو جانتی ہے۔ ہم جو بھی کام کرتے ہیں، بڑے دل کے ساتھ کرتے ہیں اور یہ دُنیا نے دیکھ لیا۔”
تقریباً 5 لاکھ آبادی پر مشتمل مغربی افریقہ کے 10 آتش فشانی جزائر پر مشتمل اس چھوٹے سے ملک نے ورلڈ کپ میں اپنی کارکردگی سے سب کو حیران کر دیا۔ عالمی رینکنگ میں 64 ویں نمبر پر موجود کیپ ورڈی (جس کا عرفی نام ‘بلیو شارکس’ ہے) نے اپنے پہلے ہی میچ میں یورپی چیمپیئن اسپین کو 0-0 سے ڈرا پر روک کر سب کی توجہ حاصل کی۔ اس میچ میں ان کے 40 سالہ گول کیپر ‘وازینہ’ (Vozinha) نے 7 شاندار سیوز کر کے راتوں رات انٹرنیٹ پر دھوم مچا دی اور سوشل میڈیا پر ان کے فالوورز کی تعداد 2 کروڑ سے تجاوز کر گئی۔
اس کے بعد ٹیم نے سابق ورلڈ چیمپیئن یوراگوئے کو 2-2 سے ڈرا پر روکا اور آخری گروپ میچ میں سعودی عرب کے خلاف صفر، صفر سے میچ برابر کر کے تاریخ میں پہلی بار راؤنڈ آف 32 کے لیے کوالیفائی کیا۔
میامی میں فلوریڈا کی رہائشی 33 سالہ وکیل ڈوریس ویگا نے کہا:”لوگوں نے ہم پر شک کیا تھا اور کہا تھا کہ ارجنٹینا کے خلاف ہماری جیت کا چانس صرف 1 فیصد ہے، لیکن ہم نے لیونل میسی کی ٹیم کا برابر مقابلہ کیا۔”
سوشل میڈیا پر اب کیپ ورڈی کی ثقافت، وہاں کی مشہور روایتی ڈش ‘کاچوپا’ (Cachupa) — جو مکئی، لوبیا اور انڈوں کا ایک مزیدار سٹو ہے — کے چرچے ہو رہے ہیں۔ مداحوں کا کہنا ہے کہ ٹیم نے تین ہفتوں تک ورلڈ کپ کو روشن رکھا اور اب فلوریڈا سے لے کر کیپ ورڈی کے جزائر تک اس تاریخی سفر کا جشن منایا جائے گا۔





