دوحہ (1 جولائی، 2026): امریکا اور ایران کے درمیان قطر کے دارالحکومت دوحہ میں جاری بالواسطہ تکنیکی مذاکرات کے دوران تہران کے 3 ارب ڈالر کے منجمد اثاثے رہا کرنے کا ایک ابتدائی معاہدہ طے پا گیا ہے۔ عرب خبر رساں ادارے ‘العربیہ’ اور ‘الحدث’ نے باوثوق ذرائع کے حوالے سے یہ رپورٹ دی ہے۔
ذرائع کے مطابق، ایران نے ان فنڈز کی مرحلہ وار بحالی کو جاری مذاکرات میں ہونے والی پیش رفت سے مشروط کیا ہے۔ جیسے جیسے مذاکرات آگے بڑھیں گے، ان منجمد فنڈز کے مختلف حصے واشگزار کیے جائیں گے۔ یہ پیش رفت تہران اور واشنگٹن کے مابین حال ہی میں طے پانے والے ‘اسلام آباد میمورنڈم’ (جس کا مقصد خطے میں کشیدگی کا خاتمہ اور آبنائے ہرمز کو بحال کرنا ہے) پر عمل درآمد کے لیے دوحہ میں شروع ہونے والے تکنیکی ورکنگ گروپس کے مذاکرات کے دوران سامنے آئی ہے۔
اگرچہ واشنگٹن یا تہران کی جانب سے ابھی تک اس مخصوص رقم کی رہائی کی باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی، تاہم ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے تصدیق کی ہے کہ دوحہ میں ہونے والی بات چیت کا ایک بڑا محور ایران کے منجمد اثاثوں کی واپسی کی دفعات پر عمل درآمد کو یقینی بنانا ہے۔ واضح رہے کہ ان بالواسطہ مذاکرات میں قطر اور پاکستان ثالثی کا کردار ادا کر رہے ہیں۔





