Zohran Mamdani Launches Crackdown on ‘Bad Landlords’ in First 100 Days

Atif Khan

نیویارک: میئر زوہران ممدانی نے اپنی انتظامیہ کے پہلے 100 دنوں میں نیویارک کے ہاؤسنگ بحران سے نمٹنے اور ‘برے زمینداروں’ (Bad Landlords) کے خلاف سخت کارروائیوں کا آغاز کر دیا ہے۔ میئر نے واضح کیا ہے کہ باعزت اور سستی رہائش ہر نیویارکر کا حق ہے اور ان کی حکومت کرایہ داروں کے تحفظ کے لیے ہر ممکن قانونی راستہ اختیار کرے گی۔

زمینداروں کے خلاف قانونی شکنجہ
میئر ممدانی نے عہدہ سنبھالتے ہی ایگزیکٹو آرڈر 3 کے تحت ‘میئرز آفس ٹو پروٹیکٹ ٹیننٹس’ کو فعال کیا اور معروف رہنما سیا ویور کو اس کا ڈائریکٹر مقرر کیا۔

پیناکل گروپ دیوالیہ پن کے کیس میں مداخلت کر کے 3 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری اور 6 ماہ میں مرمت مکمل کرنے کا عہد حاصل کیا۔

A&E ریئل اسٹیٹ: 14 عمارتوں میں 4,000 سے زائد خلاف ورزیوں کی درستگی کے لیے 21 لاکھ ڈالر کا تصفیہ کیا۔

سیتھ ملر کیس: ایک بدنام زمیندار کے خلاف تاریخی عدالتی فیصلہ جیت کر 21 لاکھ ڈالر جرمانہ اور روزانہ کی بنیاد پر مزید جرمانے عائد کیے۔

سستی رہائش کی فراہمی میں تیزی
نئے گھروں کی تعمیر میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے میئر نے ‘اسپیڈ ٹاسک فورس’ (SPEED Task Force) قائم کی ہے۔ اس کا مقصد ماحولیاتی جائزوں اور زوننگ کے عمل کو، جو پہلے دو سال لیتا تھا، کم کر کے 6 ماہ سے بھی کم کرنا ہے۔ اس کے علاوہ برونکس میں ایک ہاؤسنگ پروجیکٹ کی منظوری کا وقت 7 ماہ سے گھٹا کر صرف 90 دن کر دیا گیا ہے۔

نیویارک سٹی ہاؤسنگ اتھارٹی (NYCHA) میں سرمایہ کاری
میئر ممدانی نے اپنے ابتدائی بجٹ میں NYCHA کی عمارتوں کی مرمت اور بہتری کے لیے 66 کروڑ 20 لاکھ ڈالر کے اضافی فنڈز مختص کیے ہیں۔ اس کے علاوہ 40 ہاؤسنگ ڈویلپمنٹس سے حفاظتی شیڈز (Sheds) ہٹانے اور عمارتوں کے بیرونی حصوں کی مرمت کے لیے 65 کروڑ ڈالر فراہم کیے گئے ہیں۔

رینٹل ریپ آف (Rental Ripoff) سماعتیں
انتظامیہ نے نیویارک کے پانچوں اضلاع میں اپنی نوعیت کی پہلی عوامی سماعتیں کیں، جہاں 1,600 سے زائد کرایہ داروں نے زمینداروں کے ناروا سلوک اور گھروں کی خراب صورتحال پر اپنی گواہی ریکارڈ کرائی۔

Share This Article
Leave a Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *