WHO Intensifies Response as Ebola Outbreak Spreads in Eastern DR Congo

کانگو کا یہ علاقہ گزشتہ تین دہائیوں سے جنگ اور اندرونی خلفشار کا شکار ہے،

Editor News

نیویارک(ویب ڈیسک): عالمی ادارہ صحت (WHO) کے سربراہ ٹیڈروس ایڈہانوم غیبریسس جمہوریہ کانگو (DRC) کے مشرقی صوبے اتوری کے دارالحکومت بونیا پہنچ گئے ہیں، جو اس وقت ایبولا وائرس کی مہلک اور شدید ترین وبا سے سب سے زیادہ متاثرہ علاقہ ہے۔

صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ڈائریکٹر جنرل ڈبلیو ایچ او نے کہا کہ عالمی برادری کانگو کی حکومت کو اس وبا سے نمٹنے میں ہر ممکن مدد فراہم کر رہی ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ مقامی آبادی اور کمیونٹی کا تعاون اور اس مہم کی ملکیت لینا سب سے اہم ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان کے دورے کا مقصد مقامی لوگوں سے بات چیت کرنا، امدادی کارروائیوں کا جائزہ لینا اور درپیش چیلنجز کو حل کرنا ہے۔

افریقہ سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن (CDC) کے مطابق 15 مئی کو وبا کے باقاعدہ اعلان کے بعد سے اب تک کانگو میں ایبولا کے کم از کم 1,077 مشتبہ کیسز سامنے آ چکے ہیں، جن میں 246 ہلاکتیں شامل ہیں۔ عالمی ادارہ صحت نے خبردار کیا ہے کہ یہ وائرس تشخیص سے پہلے ہی پھیلنا شروع ہو چکا تھا، اس لیے متاثرہ افراد کی اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔ کانگو کا یہ علاقہ گزشتہ تین دہائیوں سے جنگ اور اندرونی خلفشار کا شکار ہے، جس کی وجہ سے وہاں لیبارٹری ٹیسٹنگ کی سہولیات انتہائی محدود ہیں۔

جنگ زدہ علاقہ اور مہاجر کیمپوں میں تباہی کا خطرہ:
یہ انتہائی متعدی (تیزی سے پھیلنے والا) ہیمرجک بخار کانگو کے تین مشرقی صوبوں سمیت پڑوسی ملک یوگنڈا تک پھیل چکا ہے، جہاں 9 کیسز اور ایک ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے۔ یوگنڈا نے کانگو کے ساتھ اپنی سرحد بند کر کے وہاں سے آنے والوں کے لیے 21 روز کا قرنطینہ لازمی قرار دے دیا ہے۔

طبی تنظیم ‘ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز’ (MSF) نے خبردار کیا ہے کہ ایبولا کی تاریخ میں کبھی بھی وبا کے اعلان کے ابتدائی دنوں میں اتنی بڑی تعداد میں کیسز ریکارڈ نہیں کیے گئے۔ اتوری اور قریبی صوبوں (شمالی اور جنوبی کیوو) میں ‘داعش’ اور روانڈا کے حمایت یافتہ مسلح گروپ ‘ایم 23’ کی پے درپے پرتشدد کارروائیوں کی وجہ سے لاکھوں افراد پناہ گزین کیمپوں میں انتہائی کسمپرسی اور ناقص صفائی کی صورتحال میں زندگی گزار رہے ہیں۔ کیمپوں میں گنجائش سے زیادہ افراد کی موجودگی کے باعث یہ خدشہ پیدا ہو گیا ہے کہ اگر وائرس یہاں پہنچا تو یہ پوری آبادی کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔

واضح رہے کہ اس وقت پھیلنے والی یہ وبا ایبولا کی ‘بنڈی بوگیو’ (Bundibugyo) قسم ہے، جس کی ابھی تک کوئی مخصوص ویکسین یا علاج موجود نہیں ہے۔ تاہم، افریقہ سی ڈی سی کے سربراہ نے امید ظاہر کی ہے کہ اس سال کے آخر تک اس کی ویکسین تیار کر لی جائے گی۔

Share This Article
Leave a Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *