US Probe into WhatsApp Encryption Halted After Evidence Against Meta

اس کارروائی کو "آپریشن سورسڈ انکرپشن" کا نام دیا گیا تھا، جو بغیر کسی عوامی نتیجے کے ختم ہو گیا۔

Editor News

واشنگٹن: واٹس ایپ کے اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن کے دعووں کی حقیقت جاننے کے لیے کی جانے والی امریکی حکومت کی ایک اعلیٰ سطح کی تحقیقات اس وقت اچانک بند کر دی گئیں جب تحقیقاتی ایجنٹ نے میٹا (Meta) کے خلاف سنگین ثبوت جمع کر لیے۔

یہ تحقیقات نومبر 2024 میں ایک وسل بلوئر (Whistleblower) کی شکایت پر شروع ہوئی تھیں، جس کی نگرانی بیورو آف انڈسٹری اینڈ سیکیورٹی (BIS) کے ایک خصوصی ایجنٹ نے 2025 کے دوران کی۔ تحقیقات کا مقصد یہ دیکھنا تھا کہ کیا میٹا واقعی صارفین کے نجی پیغامات تک رسائی رکھتا ہے۔

تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق، ایجنٹ نے تصدیق کی کہ میٹا صارفین کے پیغامات، تصاویر، آڈیو اور ویڈیو ریکارڈنگز کو غیر انکرپٹڈ (Unencrypted) حالت میں دیکھ اور اسٹور کر سکتا ہے۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ میٹا ایک “ٹائرڈ پرمیشن سسٹم” (Tiered Permissions System) چلا رہا ہے، جس کے تحت نہ صرف اندرونی عملہ بلکہ بھارت سمیت بیرون ملک مقیم کنٹریکٹرز کو بھی صارفین کے ڈیٹا تک رسائی دی گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق، جیسے ہی تحقیقاتی ایجنٹ نے ان ثبوتوں کو دیگر ایجنسیوں کے ساتھ شیئر کرنے کی کوشش کی، 2026 کے اوائل میں اعلیٰ حکام کے حکم پر اس کیس کو اچانک بند کر دیا گیا۔ اس کارروائی کو “آپریشن سورسڈ انکرپشن” کا نام دیا گیا تھا، جو بغیر کسی عوامی نتیجے کے ختم ہو گیا۔

دوسری جانب میٹا نے ان تمام دعووں کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ واٹس ایپ کی انکرپشن مکمل طور پر محفوظ ہے اور کمپنی خود بھی صارفین کے پیغامات نہیں پڑھ سکتی۔ یاد رہے کہ 2019 میں ایف ٹی سی (FTC) نے پرائیویسی قوانین کی خلاف ورزی پر میٹا کو 5 ارب ڈالر جرمانہ کیا تھا۔

Share This Article
Leave a Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *