واشنگٹن (ویب ڈیسک) – امریکہ میں پیر (20 اپریل 2026) کی صبح سے ان تمام کاروباری اداروں کے لیے ریفنڈ سسٹم کا آغاز ہو رہا ہے جنہوں نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں نافذ کردہ ان ٹیرفز کی مد میں اربوں ڈالر ادا کیے تھے، جنہیں سپریم کورٹ نے غیر آئینی قرار دے دیا ہے۔
ریفنڈ سسٹم کا آغاز اور طریقہ کار
یو ایس کسٹمز اینڈ بارڈر پروٹیکشن (CBP) کے مطابق، درآمد کنندگان اور ان کے بروکرز صبح 8 بجے سے ایک آن لائن پورٹل کے ذریعے اپنے کلیمز داخل کر سکیں گے۔ یہ ریفنڈز ان ٹیکسوں کے بدلے دیے جا رہے ہیں جو صدر ٹرمپ نے گزشتہ اپریل میں کانگریس کی منظوری کے بغیر ‘قومی ایمرجنسی’ کا سہارا لے کر نافذ کیے تھے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، 3 لاکھ 30 ہزار سے زائد درآمد کنندگان نے تقریباً 166 ارب ڈالر ٹیرف کی مد میں ادا کیے تھے۔
فی الحال ریفنڈ کا پہلا مرحلہ شروع کیا گیا ہے جس میں اب تک 56 ہزار سے زائد کمپنیاں رجسٹر ہو چکی ہیں، جو 127 ارب ڈالر بشمول سود وصول کرنے کی اہل ہیں۔
کلیم منظور ہونے کے بعد رقم کی واپسی میں 60 سے 90 دن لگ سکتے ہیں۔
اگرچہ یہ ریفنڈ براہ راست ان کمپنیوں کو مل رہا ہے جنہوں نے ٹیکس ادا کیا تھا، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کا فائدہ عام صارفین تک پہنچنے میں وقت لگے گا۔
امریکہ میں کوسٹکو (Costco) اور رے بین (Ray-Ban) جیسی بڑی کمپنیوں کے خلاف قانونی کارروائیاں جاری ہیں تاکہ انہیں پابند کیا جائے کہ وہ ریفنڈ کا حصہ ان صارفین کو دیں جن سے مہنگی قیمتوں کی صورت میں یہ ٹیکس وصول کیا گیا تھا۔
فیڈ ایکس (FedEx) اور یو پی ایس (UPS) جیسی کمپنیوں نے اعلان کیا ہے کہ جیسے ہی انہیں حکومت سے ریفنڈ ملے گا، وہ اپنے صارفین کو رقم واپس کر دیں گی۔
قانونی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ریفنڈ پورٹل پر ڈیٹا داخل کرتے وقت انتہائی درستگی کی ضرورت ہے۔ اگر ایک بھی انٹری غلط ہوئی تو کسٹمز پورا کلیم مسترد کر سکتا ہے۔ چھوٹے کاروبار، جو کیش فلو کے مسائل کا شکار ہیں، اس عمل کا شدت سے انتظار کر رہے ہیں تاکہ وہ اپنی معاشی حالت بہتر بنا سکیں
